صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 317 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 317

صحیح البخاری جلد ۸ ۳۱۷ ۶۴ - كتاب المغازی وَيَسْتَوْشِيهِ وَقَالَ عُرْوَةُ أَيْضًا لَمْ يُسَمَّ کھود کھود کر پوچھتا اور (اسی سند سے) عروہ نے یہ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ أَيْضًا إِلَّا حَسَّانُ بْنُ بھی کہا: بہتان باندھنے والوں میں سے اور کسی ثَابِتٍ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ وَحَمْنَةُ بِنْتُ کا نام نہیں لیا گیا سوائے حسان بن ثابت، مسطح جحش کے۔ اسی طرح جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِيْنَ لَا عِلْمَ بن اثاثہ اور حمنہ بنت لِي بِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ كَمَا قَالَ کچھ اور لوگوں کا بھی جن کا مجھے علم نہیں مگر وہ اللَّهُ تَعَالَى وَإِنَّ كِبْرَ ذَلِكَ يُقَالُ لَهُ ایک ٹولی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس کا سرغنہ عبداللہ بن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ ابْنُ سَلُولَ۔ ابی بن سلول تھا۔ قَالَ عُرْوَةُ كَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ عروہ نے کہا: حضرت عائشہ ناپسند کرتی تھیں کہ ان حسان کو برا کہا جائے اور يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ وَتَقُولُ إِنَّهُ کے پاس حضرت حسان کو بہ الَّذِي قَالَ: کہتی تھیں کہ حسان ہی تو وہ شخص ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ شعر کہا ہے : فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي میرا باپ اور میرا دادا اور میری آبرو سب التدريسية یم لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وَقَاءُ کچھ محمد صلی اللہ علم کی آبرو کے لئے سپر ہے سپر ہوں قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ حضرت عائشہ کہتی تھیں: ہم مدینہ میں پہنچے تو میں فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْتُ شَهْرًا وَالنَّاسُ ایک مہینہ بیمار رہی اور لوگ اٹک والوں کے يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَصْحَابِ الْإِفْكِ بہتان کی بابت اندھا دھند باتیں بناتے رہے۔ میں اس سے متعلق کوئی علم نہیں رکھتی تھی اور جو بات لَا أَشْعُرُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيْبُنِي مجھے اپنی بیماری میں پریشان کرتی وہ یہ تھی کہ میں فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مہربانی جو اپنی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّطْفَ الَّذِي بیماری کی حالت میں دیکھا کرتی تھی، نہیں دیکھتی۔ ہی كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي إِنَّمَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یوں نا يَدْخُلُ عَلَيَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آتے پھر سلام کرتے اور فرماتے: یہ کیسی ہے اور وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ كَيْفَ تِيْكُمْ پھر چلے جاتے۔ سو یہ بات مجھے پریشان کرتی۔ اس