صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 316 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 316

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی الْجَيْسُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا دینے والا۔میں اپنی اس جگہ پر چلی گئی جس میں مِنْهُمْ دَاعٍ وَلَا مُجِيْبٌ فَتَيَمَّمْتُ مقیم تھی۔میں نے خیال کیا کہ جب وہ مجھے نہ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ بِهِ وَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ پائیں گے تو میرے پاس واپس لوٹ آئیں گے۔سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَيَّ فَبَيْنَا أَنَا مِیں اپنے ٹھکانے میں بیٹھی تھی کہ میری آنکھ لگ گئی اور سو گئی اور صفوان بن معطل سلمی ذکوانی جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ فوج کے پیچھے پیچھے رہا کرتا تھا، وہ جب میرے وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ٹھکانے کے قریب صبح کو پہنچا تو اس نے ایک سوئے ثُمَّ الدَّكْوَانِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ ہوئے انسان کو دیکھا۔اس نے دیکھتے ہی مجھے پہچان فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ لیا اور پردہ کے حکم سے پہلے اس نے مجھے دیکھا ہوا إِنْسَانِ نَائِمِ فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَكَانَ تھا، جب اس نے مجھے پہچانا تو انا للہ پڑھا، جس رَآنِي قَبْلَ الْحِجَاب فَاسْتَيْقَظتُ سے میں جاگ پڑی۔میں نے اپنی جلباب بِاسْتِرْجَاعِهِ حِيْنَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ (اور حتی) سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا اور اللہ کی قسم ! اوڑھنی) ہم نے بات نہ کی اور نہ میں نے اس کی کوئی بات وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَ وَاللَّهِ مَا تَكَلَّمْنَا سنی سوائے انا للہ پڑھنے کے۔وہ اونٹ سے نیچے پر بِكَلِمَةٍ وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اترا اور اپنا اونٹ بٹھا دیا اور اونٹ کی اگلی ٹانگ پر اسْتِرْجَاعِهِ وَهَوَى حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ اپنا پاؤں رکھا۔میں اٹھ کر اونٹنی کے پاس آئی اور فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَقُمْتُ إِلَيْهَا اس پر سوار ہو گئی اور وہ اونٹنی کو آگے سے پکڑ کر فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ روانہ ہو گیا یہاں تک کہ ہم جلتی بھنتی دھوپ میں ٹھیک دو پہر کو لشکر میں پہنچ گئے۔اس وقت لوگ الظَّهِيْرَةِ وَهُمْ نُزُولٌ قَالَتْ فَهَلَكَ آرام) کے لئے ) اترے ہوئے تھے۔کہتی تھیں: حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ مُوغِرِيْنَ فِي نَحْرِ پھر اس واقعہ سے ہلاک ہوئے جو ہلاک ہوئے اور مَنْ هَلَكَ وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَ جس شخص نے بہتان میں بڑا حصہ لیا وہ عبد اللہ بن الْإِفْكِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيَ ابْنُ سَلُولَ إِلَيَّ بن سلول تھا۔عروہ کہتے تھے: مجھے بتایا گیا ہے قَالَ عُرْوَةُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ كَانَ يُشَاعُ که عبد اللہ بن اُبی کے پاس اس قسم کی بات چیت وَيُتَحَدَّثُ بِهِ عِنْدَهُ فَيُقِرُّهُ وَيَسْتَمِعُهُ ہوتی تو وہ اسے صحیح قرار دیتا اور کان لگا کر سنتا اور