صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 25 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 25

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۵ ۶۴ - کتاب المغازی مذکورہ بالا مسلمہ واقعات سے عیاں ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوچ کفار کے تجارتی قافلہ کو روکنے کے لئے نہیں تھا۔البتہ صحابہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عندیہ سے بے خبر ہونے کی وجہ سے یہ سمجھتے رہے کہ اس سفر سے تجارتی قافلہ کو روکنا مقصود ہے۔دونوں طرف ہی الہی مشیت ایک اہم اور عظیم الشان نشانِ فرقان ظاہر کرنے کے لئے پردہ غیب میں کار فرما تھی۔آنحضرت صلی اہل علم نے عمرو بن حضرمی کے قتل کی دیت دینی چاہی مگر کفار مکہ کے غرور نے ہتک و ذلت کے خیال سے دیت لینے سے انکار کر دیا۔ابو سفیان نے اہل مکہ کو پیغام بھیجا کہ قافلہ مقام خطرہ سے محفوظ نکل آیا ہے۔اب کسی مدد کی ضرورت نہیں۔لیکن ابو جہل کے غرور نے اصرار کیا کہ مدینہ پر ضرور حملہ کیا جائے۔امیہ بن خلف اور بنو ہاشم کے بعض افراد کی بھی مرضی نہ تھی کہ جنگ کے لئے نکلیں۔انہیں ابو جہل نے مجبور کیا تھا۔لے روایت نمبر ۳۹۵۰ میں بھی ذکر ہے کہ ابو جہل۔امیہ بن خلف سے خود ملا اور اسے آمادہ کیا۔سیرت ابن ہشام کی روایت میں ہے کہ عقبہ بن ابی معیط - امیہ کے پاس آیا اور وہ اپنے ساتھ کوئلوں کی انگیٹھی لے گیا اور اس سے کہا: إِسْتَجْمِرْ فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنَ النساء - یعنی یہ انگیٹھی لو اور اس کی آگ سینکو، تم تو عورتوں ہی میں سے ہو۔اس طعنے پر اس کی غیرت کو حرکت ہوئی اور وہ شامل لشکر ہو گیا۔کے طبقات ابن سعد کی روایت میں ہے کہ شیبہ اور عتبہ نے بھی مکہ کے لوگوں کو مشورہ دیا کہ جنگ کرنا مناسب نہیں۔اس پر ابو جہل نے عمرو بن حضرمی کے بھائی عامر کو لوگوں کے پاس بھیجا۔جس نے عرب کے قدیم دستور کے مطابق برہنہ ہو کر واویلا شروع کر دیا اور دُہائی دی اور انتقام کے لئے لوگوں کو بھڑکایا۔کے اور بنو کنانہ کے رئیس سراقہ بن مالک بن جعشم نے قریش مکہ کو اپنی مدد کا پورا یقین دلایا اور اس نے ابو جہل کی رائے کی پوری تائید کی اور اس کی تائید کی وجہ سے مکہ کے لوگ جنگ کے لئے آمادہ ہو گئے تھے۔" سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ سراقہ کی امداد کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے : وَاذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارَ لَكُمْ فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِتَنِ نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِى مِنْكُمْ إِلى أَرى مَا لَا تَرَوْنَ اِنّي أَخَافُ اللهَ وَاللهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ } (الأنفال: ۴۹) یعنی اس وقت کو یاد کرو جب شیطان نے ان کے اعمال انہیں خوبصورت رنگ میں دکھائے اور کہا: آج لوگوں میں سے تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں۔پھر جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو وہ اپنی ایڑیوں کے بل پھر گیا اور اس نے کہا: (دلائل النبوة للبيهقي ، جماع ابواب المغازی، باب سیاق قصة بدر، جزء ۳ صفحه ۱۰۵ - ۱۰۸) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بدر الكبرى، قريش تتجهز للخروج، جزء ۲ صفحه ۲۵۳) (الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر عدد مغازی رسول اللہ ﷺ، غزوة بدر، جزء۲ صفحه ۱۵) دلائل النبوة للبيهقی، جماع ابواب المغازی، باب سیاق قصة بدر، جزء ۳ صفحه (۱۱۱)