صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 313
حيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی یح : عزوة المار : اس غزوہ کا تعلق بھی اسی یورش سے ہے جس میں غزوہ بنی مصطلق سے مقابلہ ہوا تھا۔بنی انمار بھی عدنانی اور معد کی نسل میں سے تھے جیسے قبائل مضر بن نزار ، ربیعہ بن نزار۔یہ قبائل مدینہ جانے والوں کے راستہ میں حائل تھے اور ان کی سرکوبی کے لئے ان کے علاقہ پر مذکورہ بالا یورش کی گئی۔قبیلہ بنی مصطلق کی لڑائی کا ذکر تو باب ۳۲ میں موجود ہے مگر قبیلہ انمار کی لڑائی کا ذکر اس میں نہیں۔صرف اتنا ذکر ہے کہ رسول اللہ لا یکم غزوہ انمار میں اونٹنی پر نماز پڑھتے دیکھے گئے۔ابن اسحاق، سیرت ابن ہشام یا ابن سعد کی روایات میں اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں۔امام بخاری نے انمار کے عنوان سے علیحدہ باب قائم کر کے انہیں باقی قبائل غطفان کے ساتھ شامل کیا ہے جن پر زمانہ خوف میں یورشیں کی گئی تھیں تا آمد ورفت کے لئے راستوں میں امن قائم ہو۔جنگ عظیم اوّل ۱۹۱۶ کے اوائل میں مرحوم حسین رؤوف پاشا کی زیر قیادت مجھے ایک ترکی رسالہ میں بطور ایمر جنسی کمیشن کام کرنے کا موقع ملا ہے۔یہی طریق تخویف و ترہیب قبائلی علاقہ واقع حدود ایران و عراق میں کارآمد ہتھیار ثابت ہوا تھا اور تقسیم ہند کے وقت جب مشرقی پنجاب سکھوں کی تاخت و تاراج کا آماجگاہ بنا اور قادیان کے ماحول میں نہایت خطرناک صورت حال قائم ہوئی تو باؤنڈری فوج سرحدی دستہ فوج) کی طرف سے ایک دستہ فوج قادیان میں بھی متعین ہوا اور اس کے کمانڈنگ آفیسر کیپٹن رولا کو امن بحال کرنے کے لئے بعینہ یہی طریق اختیار کرنا پڑا۔باؤنڈری فوج کی میعاد ۳۰ ستمبر ۱۹۴۷ء کو ختم ہوئی تو پھر سکھ جتھوں کی طرف سے قتل و غارت شروع ہو گئی اور آخر ان کی روک تھام کے لئے بھارت کی حکومت نے چاروناچار یہی طریق تخویف اختیار کیا تھا۔تب جا کر مشرقی پنجاب کا امن بحال ہوا۔ناگزیر حالات میں ہمیشہ اس طریق سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی متذکرہ بالا یورشوں کی بھی یہی صورت و کیفیت تھی۔چھ سات ماہ کی قلیل مدت میں تیرہ یورشیں مختلف اطراف میں ہوئیں جن میں خونریزی بہت کم اور نتائج خاطر خواہ بر آمد ہوئے جن کا مفصل ذکر آئندہ ابواب میں ہے۔بَابِ ٣٤: حَدِيثُ الْإِفْكِ افک کا واقعہ سروود وَالْأَفَكِ بِمَنْزِلَةِ النِّجْسِ وَالنَّجَسِ، (افت) اور آفٹ کا لفظ نجس اور نجس کے وزن يُقَالُ اِفلَهُمْ (الأحقاف (۲۹) وَأَفَكُهُمْ پر ہے۔اِفلَهُمْ أَفَكُهُمْ اور آفَكُهُمْ بھی کہا وَأَفَكُهُمْ، فَمَنْ قَالَ أَفَكَهُمْ يَقُولُ جاتا ہے۔افلھم کے معنی ہیں ان کا بہتان۔اور جس نے افگھر پڑھا ، وہ کہتا ہے: اس نے انہیں صَرَفَهُمْ عَنِ الْإِيْمَانِ وَكَذَّبَهُمْ كَمَا ایمان سے پھیر دیا اور جھوٹا بنایا۔جس طرح قَالَ يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أفِكَ (الذاريات: ۱۰) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أَفِكَ یعنی وہی ( حق سے ) پھیرا جاتا ہے جسے پھرایا جانا ہوتا ہے۔يُصْرَفُ عَنْهُ مَنْ صُرِفَ۔