صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 312
صحیح البخاری جلد ۸ ۳۱۲ ۶۴ - کتاب المغازی غزوہ خندق شوال ۴ھ میں ہوا تھا اور اس کے بعد نئی یورشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو شعبان ۴ھ میں تو یقینا نہیں ہو سکتا کیونکہ شعبان ماہِ شوال سے پہلے ہے اور اس کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے جو غزوہ مریسیع سے واپسی پر پیش آیا تھا یعنی بدوی کے تلوار سونتنے کا واقعہ جس کا ذکر روایت نمبر ۴۱۳۵، ۴۱۳۶ میں گزر چکا ہے اور یہاں اسی غرض سے دُہرایا گیا ہے۔ یہ واقعہ بھی ایک ہی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ابن اسحاق اور ابن سعد ( مصنف طبقات) دونوں کا بیان ہے کہ حارث بن ابی ضرار سردار بنی مصطلق نے ایک بڑی جمیعت مدینہ پر حملہ کرنے کی غرض سے اکٹھی کی۔ یہ اطلاع آنحضرت صلی اللہ ہم کو غزوہ ذات الرقاع کے دوران ہی مل گئی تھی۔ کوچ کے اثناء میں ان کا ایک جاسوس گرفتار ہو گیا تھا جو قتل کیا گیا اور ان کے حملے سے قبل ان پر دھاوا کر دیا گیا جس سے وہ شکست کھا کر فرار ہو گئے۔ اے ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۳۸) کتاب العتق باب ۱۳ روایت نمی باب ۱۳ ( روایت نمبر ۲۵۴۱) میں الفاظ وَهُمْ غَارُوت وارد ہوئے ہیں کہ اُن پر غفلت کی حالت میں چھاپہ مارا گیا تھا۔ امام ابن حجر نے اس کی وضاحت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ ظلم کے پہنچنے کا علم ان کو اُسی وقت ہوا تھا جب آپ نے ان پر یورش کی اور وہ آپ سے لڑے مگر اُن کے قدم جلد ہی اکھڑ گئے ۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۳۷) ان الفاظ کا یہ مفہوم نہیں کہ وہ لڑائی کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کی تیاری پہلے سے ہی کر چکے تھے۔ روایت مندرجہ بالا سے ظاہر ہے کہ آپؐ کے سلوک کی وجہ سے یہ قبیلہ مسلمان ہو گیا تھا۔ کے بَاب ۳۳ : غَزْوَةُ أَنْمَارٍ غزوه انمار ٤١٤٠ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ ۴۱۴۰: آدم بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا کہ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ابن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا کہ عثمان بن بْنِ سُرَاقَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عبد الله بن سراقہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے الْأَنْصَارِي قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ يُصَلِّي عَلَى انہوں نے کہا: میں نے غزوہ انمار میں نبی صلی اعلی تم کو رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِهَا قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُتَطَوّعًا۔ دیکھا کہ آپ اپنی اونٹنی پر بیٹھے نفل پڑھ رہے ہیں۔ اطرافه ۱۰۹۹،۱۰۹۴،۴۰۰ آپ نے مشرق کی طرف منہ کیا ہوا تھا۔ ا (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بني المصطلق، جزء ۳ صفحه ۲۳۵) ( الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ ، غزوۃ المریسیع، جزء ۲ صفحه ۵۹، ۶۰ ) تاريخ الخميس، وقائع السنة الخامسة من الهجرة ، غزوة المريسيع تزويجه بجويرية، جزء اول صفحه ۴۷۴) صد الله سلم