صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 311
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی فَجِئْنَا فَإِذَا أَعْرَابِيُّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ میں آرام ہی کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فَقَالَ إِنَّ هَذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ ہمیں بلایا۔ہم آئے ، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بدوی فَاخْتَرَطَ سَيْفِي فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ آپ کے سامنے بیٹھا ہے۔آپ نے فرمایا: یہ عَلَى رَأْسِي مُخْتَرِطٌ سَيْفِي صَلْنَا قَالَ میرے پاس آیا اور میں سو رہا تھا، اس نے میری مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قُلْتُ اللهُ فَشَامَهُ ثُمَّ تلوار سونت لی۔میں جاگ پڑا۔یہ میرے سر پر قَعَدَ فَهُوَ هَذَا قَالَ وَلَمْ يُعَاقِبَهُ ننگی تلوار سونتے کھڑا تھا۔کہنے لگا: کون مجھ سے تمہیں بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ۔اس نے تلوار رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔نیام میں کر لی، پھر بیٹھ گیا۔سو وہ یہ ہے۔حضرت المدرسة أطرافه ۲۹۱۰، ۲۹۱۳، ۴۱۳۴، ۴۱۳۶،۴۱۳۵، جابر نے کہا: رسول اللہ صلی علیم نے اسے سزا نہ دی۔تشريح غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ وَهِيَ غَزُوَةُ الْمُرَيسِيعِ: مربع چشمہ کا نام ہے جو مقام فرع سے ایک دن کی مسافت پر تھا۔بنو مصطلق قبائل خزاعہ میں سے ایک قبیلہ کا نام ہے جس کی بود و باش اس چشمہ کے قریب کے ان اطراف میں تھی جہاں بنو لحیان وغیرہ آباد تھے۔قدید چشمہ ساحل سمندر کے نزدیک اس کاروانی راستے پر واقع ہے جو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کو جاتا ہے۔مذکورہ بالا چشمہ قدید کے قریب تھا جو مکہ مکرمہ سے تیسرا پڑاؤ ہے۔اس علاقہ میں خزاعہ کے بعض قبیلے آباد تھے اور یہاں سے مشرق کی طرف علاقہ مسجد کے بالائی حصوں پر بنو سلیم قابض تھے۔بنو لحیان، جہینہ وغیرہ غطفانی قبائل میں سے ہیں جو یمامہ وغیرہ علاقوں میں سکونت رکھتے تھے اور قبیلے تو اپنے معاہدہ موالات کے پابند رہے مگر بنو مصطلق جو قبائل خزاعہ میں سے تھا قریش کے زیر اثر آکر مسلمانوں کے خلاف ہو گیا تھا۔اس کے خلاف یورش کی وجہ علاوہ نقض معاہدہ کے وہی ہے جو او پر تفصیل سے بیان ہو چکی ہے۔اس غزوہ کی تاریخ وقوع سے متعلق دو بیان ہیں۔ایک ابن اسحاق کا جو سیرت ابن ہشام سے مروی ہے۔اور دوسرا موسیٰ بن عقبہ کا جیسا کہ عنوان باب میں مذکور ہے۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ یہ غزوہ ۴ھ میں نہیں بلکہ ۵۵ میں ہو ا تھا۔۴ھ سہو کتابت ہے۔حاکم"، بیہقی اور ابوسعید نیشاپوری نے موسیٰ بن عقبہ کی جو روایت نقل کی ہے اس میں شعبان ۵ ھ کا ذکر ہے کہ اس سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق اور بنو لحیان کے ساتھ مقابلہ کرنے کی غرض سے کوچ کیا۔(فتح الباری جزء صفحہ ۵۳۷،۵۳۶) t (فتح الباری جزءے صفحہ ۵۳۶) (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۰۱) ( حدائق الأنوار ومطالع الأسرار في سيرة النبي ﷺ ، غزوة بني المصطلق) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بني المصطلق، جزء۳ صفحه ۲۳۵) (دلائل النبوة للبيبقى، ابواب مغازی رسول الله ﷺ ، باب غزوہ بنی المصطلق، جزء ۴ صفحه (۴۵)