صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 309
حيح البخاری جلد ۸ ۳۰۹ ۶۴ - کتاب المغازی (۴) وہ زمانہ جس میں مذکورہ بالا پے در پے یورشیں ہوئی ہیں شدید خوف و ہراس کا زمانہ تھا۔راہزنی اور قزاقی نے ملک میں خطرناک صورت اختیار کر لی تھی۔حضرت عدی بن حاتم طائی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس تشویشناک صورتحال کی شکایت کی گئی تو آپ نے فرمایا: وہ وقت دور نہیں کہ شتر سوار پرده نشین خاتون حیرہ سے بے کھٹکے و بلا خوف و خطر اکیلی بیت اللہ کے طواف کے لیے سفر کرے گی۔(کتاب المناقب، باب ۲۵: علامات النبوة فی الاسلام ، روایت نمبر ۳۵۹۵) آپ کے اس ارشاد سے آپ کی پے در پے مہمات کی غرض و غایت واضح ہو جاتی ہے۔بدوی غارت گری نے ملک کے طول و عرض میں جو خوف وہراس کی صورت پیدا کر دی تھی، اس کا انسداد وسائل خوف وہراس ہی کے ذریعہ سے کرنا پڑا جس میں نصرت الہی نے مذکورہ بالا طریق سے یاوری فرمائی اور برسوں کا کام دنوں میں قرار پا گیا اور سارے ملک نے امن کا سانس لیا۔امام بخاری نے سلسلہ غزوات دفاع و ہجوم ( اچانک جالینا) کی جو ترتیب قائم کی ہے اگر مذکورہ بالا واقعاتی پس منظر میں دیکھی جائے تو یہی ترتیب صحیح اور حقیقی ہے کیونکہ وہ ایک طرف واقعات پیش آمدہ اور ان کے نتائج کے ساتھ اور دوسری طرف شان نزول آیات (صلوۃ الخوف) کے ساتھ منطبق ہوتی ہے۔نماز خوف کی مزید وضاحت کے لیے دیکھئے کتاب صلاة الخوف۔بَاب :۳۲: غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ بنو مصطلق جو خزاعہ کی ایک شاخ ہے اس سے لڑائی کا بیان وَهِيَ غَزْوَةُ الْمُرَيْسِيعِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ اور یہی غزوہ مریسیع ہے۔ابن اسحاق نے کہا: اور وَذَلِكَ سَنَةَ سِتٍ، وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ یہ جنگ چھٹے سال ہجری میں ہوئی۔موسیٰ بن سَنَةَ أَرْبَعٍ، وَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عقبہ نے کہا: ۴ھ میں اور نعمان بن راشد نے عَنِ الزُّهْرِيِّ كَانَ حَدِيْثُ الْإِفْكِ فِي زہری سے نقل کیا کہ افک کا واقعہ غزوہ مریسیع غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ۔میں ہوا تھا۔٤١٣٨: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۴۱۳۸ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِيعَةَ اسماعيل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ربیعہ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ بن ابى عبد الرحمن سے ، ربیعہ نے محمد بن يحي بن يَحْيَى بْن حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُخَيْرِيزٍ أَنَّهُ حبان سے، انہوں نے ابن محیریز سے روایت کی۔قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ انہوں نے کہا کہ میں مسجد نبوی میں گیا اور وہاں الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عن حضرت ابوسعید خدری کو دیکھا۔میں ان کے پاس