صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 308 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 308

صحیح البخاری جلد ۸ اریم ۳۰۸ ۶۴ - کتاب المغازی باب ۳۲ میں ہے۔بنو مصطلق قبیلہ جنگ میں شکست کھا کر قید ہو گیا تھا اور اموال غنیمت مع اسیران جنگ حسب دستور مجاہدین میں تقسیم کئے گئے۔قیدیوں میں قبیلہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی بڑہ (حضرت جویریہ) بھی تھی جو حضرت ثابت بن قیس کے حصہ میں آئیں۔حضرت جویریہ نے حضرت ثابت سے مکاتبت چاہی اور ان کا باپ حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اور عرض کی کہ ان کی بیٹی لونڈی نہ بنائی جائے۔آپ نے فرمایا: یہ امر جویریہ کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔حضرت جویریہ نے اپنے باپ حارث سے اشارہ کہا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے آزاد کر کے اپنی زوجیت میں لینا پسند کریں تو یہ بات اس کی عزت کے لائق ہو گی۔چنانچہ حارث نے اپنی بیٹی کی رائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی جو آپ نے قبول فرمائی۔مکاتبت کے ذریعہ آزاد ہونے پر حضرت جویریہ کا نکاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا۔جب صحابہ کرام کو اس مصاہرت ( تعلق دامادی) کا علم ہوا تو انہوں نے خوشی میں قبیلہ بنو مصطلق کے قیدی آزاد کر دیئے۔بلکہ اموالِ غنیمت بھی واپس کر دیئے۔اس نیک سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ سارا قبیلہ اپنے سردار حضرت حارث سمیت مسلمان ہو گیا جس سے بنو مصطلق کا سارا علاقہ از خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تصرف آگیا اور یہ امر تصرفات الہیہ میں سے تھا۔اسی طرح بنو جذام کے مسلمان ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔کے (۳) خوفزدہ قافلوں کے مالک اور کار پرداز خوب سمجھتے تھے کہ قریش اور ان کے حلیفوں کی غرض حرص و ہوس اور نفع اندوزی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ کرام کا مطمح نظر اس سے بہت بلند و بالا۔آپ کے حملوں کی غرض و غایت دنیا کا مال و دولت نہیں بلکہ امن ملک اور مذہب کی آزادی ہے۔آپ کے واضح اور غیر مبہم اعلان لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: ۲۵۷) مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْةٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقَوَةِ الْمَتِيْن (الذاريات: ۵۹،۵۸) إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى اللهِ (سبأ: ۴۸) سے عام و خاص کے کان مانوس تھے۔اس لئے ان کا فروں کا طبعی رجحان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا۔جتنا فرق متحارب فریقین کے نقطہ نظر اور اخلاق و کردار میں تھا، اتنے ہی فرق کی نسبت سے ان کافروں کے جذبات میں ہمدردی و اطمینان تھا۔ان دونوں فریقوں میں سے طبعاً ایک فریق کے ساتھ مخالفانہ اور دوسرے فریق کے ساتھ موافقانہ صورت تھی اور یہ جذبات اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے اور یہ امر تلگی تصرفات میں ہی شمار ہوتا ہے۔وس وو (الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلاني ذكر جويرية بنت الحارث) ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بني المصطلق ، أمر جويرية بنت الحارث، جزء ۳ صفحه ۲۴۰) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، في ذكر أزواجه الطاهرات جويرية أم المؤمنین، جزء ۴ صفحه ۴۲۶) (السيرة النبوية لابن هشام ، قدوم رفاعة بن زید الجدامی، جزء ۴ صفحه ۲۳۹) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع ”دین میں کوئی جبر نہیں۔“ ( البقرۃ:۲۵۷) میں اُن سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔یقینا اللہ ہی ہے جو بہت رزق دینے والا، صاحب قوت ( اور ) مضبوط صفات والا ہے۔“ (الذاریات: ۵۹٬۵۸) ”میرا اجر تو اللہ کے سوا کسی پر نہیں۔“ (سبا: ۴۸)