صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 307
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۰۷ ۶۴ - کتاب المغازی مسجد کا زر خیز حصہ اور علاقہ یمامہ دونوں گندم کی پیداوار کا اہم مرکز تھے جس سے سارے عرب کی ضرورت بآسانی پوری ہو جاتی تھی۔گندم، کھجور وغیرہ اجناس کی برآمد شمالی و جنوبی راستوں سے بذریعہ کاروان کی جاتی تھی۔قریش مکہ رحلة الصيف (گرمائی سفر ) کا عام اور آسان ساحلی راستہ چھوڑ کر مسجد کا مذکورہ بالا صحرائی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے جو قبائل بنی غطفان وغیرہ کے علاقوں میں سے گزرتا تھا۔یمن سے کاروانی راستہ وادی نجران کے جنوب مغربی کنارے کو چھوتا ہو ا قبائل بنی مذحج اور بنی خزاعہ کے علاقہ جات سے گزر کر سیدھا مکہ مکرمہ پہنچتا اور پھر یہاں سے ساحل قلزم کے محاذ پر سے گزر کر براستہ ینبوع، شام و یمن وغیرہ کی منڈیوں کی طرف جاتا تھا۔یہ راستہ مختصر تھا جس کی وجہ سے شام و یمن کے درمیان رحلة الصیف کی تجارت کے لئے نقل و حرکت میں بڑی آسانی تھی۔لیکن اب قریش کو اس راستے سے محروم ہونا پڑا اور ان کے تجارتی قافلے دومۃ الجندل کے راستے سے جو تجارت کی منڈی کا بہت بڑا مقام تھا۔شام و عراق کی منڈیوں کی طرف جانے لگے۔تبدیل شدہ حالات میں مجدی قبائل قریشی قبائل کی تو حفاظت کرتے تھے مگر مدینہ کے قافلوں سے تعرض کرتے اور یہ نئی صورتحال اصل سبب ہوئی ان اسلامی مہمات کا، جن کا ذکر باب ۳۱ تا ۳۴ میں ہے۔جن حملوں کا ان میں ذکر ہے ان کے ذریعہ سے قبائل مسجد کی غارت گری کا مقابلہ کیا گیا اور مندرجہ ذیل صورتوں میں الہی نصرت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی تائید فرمائی اور ایک مشکل ترین مہم چند مہینوں میں سر ہو گئی۔مجدی راستے دور دراز اور دشوار گزار تھے جس کی وجہ سے مشقت سفر اور اخراجات کی زیادتی لازمی تھی۔علاوہ ازیں قبائلیوں کی قدیم رقابتوں نے ان مشکلات میں اور اضافہ کر دیا تھا۔مذکورہ بالا مسجدی قبائل معد بن عدنان، ربیعہ، نزار، مصر اور انمار کی طرف منسوب ہوتے اور عدنانی نسب کہلاتے تھے۔لیکن اسی نسبی تعلقات کے باوجود ان کی قرابت و عداوت اور خانہ جنگیوں کی حالت زمانہ جاہلیت کی ایک مشہور داستان ہے۔قبائل آسد، جدیلہ، عبد القیس، وائل، بکر، تغلب اور تمیم مسجد، یمامہ ، بحرین اور وادی الرماة ، بصرہ اور صحرائے عراق میں آباد تھے۔ان میں سے بعض قبیلے ان علاقوں میں اپنے سابقہ ناموں کے ساتھ اب تک موجود ہیں۔گزشتہ جنگ عظیم اول کے دوران مجھے دو دفعہ بادیہ شام و عراق میں سے گزرنے اور مشائخ عنزہ وغیرہ کے ہاں مہمان ٹھہرنے کا موقع ملا ہے۔مذکورہ بالا قبائل کی خانہ جنگیوں کے اسباب میں سے ان کی قدیمی رقابتیں بھی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ان کا یہی حال تھا۔چنانچہ اگر ایک قبیلہ قریش کے کاروانِ تجارت کی حفاظت کرتا تو دوسرا اُن کی گھات میں بیٹھ جاتا۔اسلامی مہمات کے خطرے نے قافلوں کے لئے مزید تشویشناک صورت پیدا کر دی تھی۔خوفزدہ قافلے اور تجارت پیشه مالک و سرمایه دار و کار پرداز ان حالات سے مطمئن نہ تھے بلکہ بدوی غارت گری سے ہمیشہ خائف رہے کیونکہ وہ نہ قریش کے قافلے چھوڑتے اور نہ کسی اور کے۔(۲) حضرت ثمامہ بن اثال سردار بنی حنیفہ کے مسلمان ہونے پر یمامہ کی اجناس خوردنی قریشی منڈیوں کی طرف جانے سے رُک گئیں (کتاب المغازی، باب ۷۰، روایت نمبر ۴۳۷۲) اور غزوہ بنی مصطلق (خزاعہ ) کا ذکر