صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 306
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۰۶ ۶۴ - کتاب المغازی سے مدینہ کے خلاف ناکہ بندی اور نئے حملے کی تیاری تھی اور یہ اقدام قبائل بنی محارب و ثعلبہ سے ہی محدود نہ تھا بلکہ بنی انمار و بنی مصطلق وغیرہ بھی اس میں شامل تھے۔علاوہ ازیں قریش مکہ نے بنی خزاعہ کے ایک قبیلہ (جہینہ) کو بھی ورغلا کر اپنے منصوبے میں شامل کر لیا تھا اور یہ وہ قبائل تھے جن کے ساتھ ہجرت کے پہلے سال میں معاہدہ موالات کے ہو چکا تھا۔اس لئے اس خطر ناک فتنے کی نہ صرف روک تھام ہی ضروری تھی بلکہ اس کا استیصال بھی۔تاد شمن کا منصو بہ خود اس پر الٹ کر دور رس نتائج پیدا کرنے کا موجب ہو۔مذکورہ بالا قبائل سے متعلق یورشیں چونکہ ایک ہی وقت اور ایسے علاقوں میں جلد جلد واقع ہوئیں کہ جن کا نام ہی ذات الرقاع ہے اس لئے اس نام سے یہ غزوات کہلائے۔ایک وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہاں خاص قسم کے بوقلمون کو ہسار اور قسم قسم کے قطعات ارضی واقع تھیں۔اس لئے سارے علاقے کا نام ذابت الرقاع تھا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۳) امام بخاری نے مشار الیہ غزوات کو ایک ہی عنوان کے ذیل میں رکھا ہے اور ان کے زمانہ وقوع کی تعیین بھی کی ہے یعنی وہ زمانہ جس میں صلوۃ الخوف پڑھی گئی تھی۔شان نزول آیات متعلقہ صلوۃ خوف اور مذکورہ بالا غزوات کا زمانہ ایک ہی ہے اور یہی امر ذہن نشین کرانے کے لئے ان ابواب میں وہ روایتیں لائی گئی ہیں جن میں نماز خوف کا حکم وارد ہوا ہے۔مغازی کی روایات سے بھی اسی امر کی تصدیق ہوتی ہے۔ان روایات کا خلاصہ درج ذیل ہے: (۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنی قریظہ کے چھ ماہ بعد جمادی الاولیٰ کے شروع میں بنو لحیان سے واقعہ رجیع کا انتقام لینے کے لئے مدینہ سے کوچ فرمایا اور اپنی غیر حاضری میں ابن ام مکتوم کو امیر مقرر کیا۔آپ نے جبل غراب کی طرف سے وہ راستہ اختیار کیا جو شام کو جاتا ہے اور محیص و بتراء سے ہوتے ہوئے بائیں جانب مڑے اور یین و ضخیرات الیمام کا چکر کاٹ کر مکہ مکرمہ کی شاہراہ پر آگئے اور پھر بڑی سرعت سے وادی عمران میں پہنچے جو امیج اور عسفان کے درمیان ہے اور جہاں بنو لحیان کے ڈیرے تھے۔یہ لوگ اطلاع پا کر پہاڑوں میں چھپ گئے۔جبل عسفان سے اتر کر آپ نے دامن کوہ میں قیام فرمایا۔اور دو سوشتر سوار سمیت اس علاقہ میں چکر لگایا اور پھر دو اسپ سوار آگے بھیجے اور انہیں ہدایت کی کہ کراع العمیم تک جا کر وہاں سے لوٹ آئیں۔اس نقل و حرکت سے یہ مطلوب تھا کہ مکہ والوں اور علاقے کو آپ کی آمد کا علم ہو جائے۔یہاں سے لوٹ کر آپ مدینہ پہنچے جہاں آپ نے چند دن ہی قیام فرمایا تھا کہ عیینہ بن حصن فزاری غطفانی نے اسپ سواروں کے ساتھ مدینہ کی چراگاہ غابہ پر چھاپہ مارا۔قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص کو قتل کر کے دو دھیل اونٹنیاں ہانک کر چلتے بنے اور غفاری کی بیوی کو بھی ساتھ لے گئے۔یہ واقعہ غزوہ ذی قرد کا باعث ہوا۔یہی واقعہ قدرے اختلاف لیکن زیادہ تفصیل سے ابن سعد نے بھی نقل کیا ہے۔ان کے بیان میں غزوہ بنی لحیان، غابہ پر شب خون کا واقعہ ، حضرت سلمہ بن اکوع کے تعاقب اور دودھیل اونٹنیوں کی واپسی کا واقعہ ربیع الاول میں (یعنی غزوہ بنی قریظہ سے چار ماہ بعد ) بیان ہوا ہے۔۔( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بنی لحیان، جزء ۳ صفحه ۲۲۵۔غزوہ ذی قرد، جزء ۳ صفحه ۲۲۷) الطبقات الكبرى لابن سعد ، غزوہ بنی لحیان جزء ۲ صفحہ ۷۴۔غزوة الغابة جزء ۲ صفحہ ۷۶)