صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 305 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 305

صحيح البخاری جلد ۸ ۳۰۵ ۶۴ - کتاب المغازی ان میں سے ایک راستہ مکہ مکرمہ سے شاخ در شاخ ہوتا ہو ا شام و عراق عرب اور ایران کی طرف پہنچتا تھا اور دوسرا موسم گرما میں بحیرہ قلزم کا ساحلی راستہ ینبوع کے قریب سے مصر و شام وغیرہ شمالی علاقوں کو جاتا تھا اور موسم سرما میں ساحلی بحیرہ عرب کے محاذ پر کاروانی راستہ یمن و عمان کے درمیان کام دیتا۔اسی طرح موسم سرما میں مکہ مکرمہ سے تجارتی قافلے دومۃ الجندل اور طائف اور نجد کے راستوں سے عراق عرب و ایران و ہند اور ممالک چین کی طرف جاتے تھے۔زمانہ قدیم میں ان کاروانی راستوں کو بہت بڑی اہمیت حاصل تھی جس کی وجہ سے مکہ مکرمہ بین الا قوامی تجارت کا مرکز بنا رہا اور قریش جس طرح چاہتے اس تجارتی کاروبار میں تصرف کرتے تھے۔آنحضرت علی ای کم کو ایک فکر تو مدینہ کے امن اور اس کے لئے خوراک کی بہم رسانی تھی اور دوسری فکر آپ کو دشمنوں کے فتنہ فساد اور قتل و غارت کی روک تھام سے متعلق تھی جس کے لئے انسدادی تدبیر کا فوری طور پر اختیار کرنا ناگزیر تھا۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی مہموں کا علم سفید تھا اور پہلی ہجری ہی میں آپ نے قبائل خزاعہ وجہینہ کے سرداروں سے معاہدہ موالات طے کر لیا تھا۔اسی طرح دوسری ہجری کے شروع میں بندرگاہ ینبوع و صخیرات الیمام کے آس پاس آباد قبائل کنانہ بنی ضمرہ، بنی مدلج ، بنی زرعہ اور بنی ربعہ اور ان کے حلیفوں سے بھی معاہدہ موالات تحریر کیا گیا تھا۔یہ قبائل مدینہ منورہ اور بحیرہ احمر کے درمیان ساحلی علاقوں میں بودو باش رکھتے تھے اور وہیں سے قریشی کاروان تجارت کو موسم گرما میں گزرنا پڑتا تھا۔نئے تبدیل شدہ حالات میں یہ راستے ان کے قبضے میں نہ رہے کیونکہ شام سے مکہ کو آنے جانے والے قافلوں کو روکنا مسلمانوں کے لیے آسان تھا۔بدر کی مشہور منڈی بھی اسی راستے پر تھی اور یہ بتایا جا چکا ہے کہ غزوہ بدر کے اسباب میں سے ابو سفیان والا قافلہ بھی ایک سبب تھا۔غرض قریش اپنے قافلوں کے راستے مسجد کی طرف بدلنے پر مجبور ہو گئے تھے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ہم خیال مشرک قبائل کی مدد سے مدینہ کی تجارت میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کر دیں۔اس تعلق میں دومۃ الجندل کی مہم کا ذکر گزر چکا ہے۔غرض دوسرے دور کے غزوات کا تعلق زیادہ تر اسی اقتصادی کشمکش سے ہے جو غزوہ احزاب کے بعد کھلے طور پر ہو کر بالآخر اہم نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوئی۔اس نئی کشمکش میں بھی قریش اور اس کے ہم عقیدہ اور ہمد رد قبائل کو بے بس ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔غزوہ ذات الرقاع کا اصل سبب قبائل بنی محاربہ و ثعلبہ کی طرف سے مدینہ کی اقتصادی ناکہ بندی تھی۔باب کی مستند روایات میں تو بنظر ظاہر اس لڑائی کا یہ سبب مذکور نہیں مگر حوالہ جات کی تحقیق سے یہ سبب بالکل نمایاں ہو جاتا ہے۔ان حوالوں میں بعض حوالے روایات مغازی کے بھی ہیں جن میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ اس مہم کی اصل وجہ مذکورہ بالا غطفانی قبائل کی طرف ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة وڈان، جزء ۲ صفحه ۲۳۴) ( السيرة النبوية لابن هشام، سرية حمزة الى سيف البحر، جزء ۲ صفحه ۲۳۸۔غزوة العشيرة جزء ۲ صفحه ۲۴۱) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول اللہ ﷺ ، غزوة الأبواء، جزء ۲ صفحہ ۷) ( مجموعة الوثائق السياسية لبنى زرعة وبنى ربعة من جهينة (۱۵۱)، جزء اول صفحہ ۲۶۲)