صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 304
صحیح البخاری جلد ۸ الله له ۶۴ - کتاب المغازی آگئے اور قریش اور ان کے حلیفوں کی اقتصادی طاقت شل ہو کر رہ گئی۔ مال و دولت کی فراوانی ہی کے برتے پر یہو دو قریش نے قبائل کو بر انگیختہ کر کے مدینہ پر بار بار حملے کئے تھے اور آخری حملہ احزاب سے پہلے انہوں نے دومة الجندل والے تجارتی راستہ کو روک کر مدینہ سے اجناس کی رسد موقوف کر دی تھی اور یہی سلسلہ راہزنی اور غارت گری جنگ احزاب کے بعد بڑی شد و مد سے پھر شروع ہو گیا تھا جس کی روک تھام کے لئے مختلف اطراف میں صا متعد دبار کوچ کرنا پڑا۔ مذکورۃ الصدر قبائل مضر و ربیعہ نجد اور اس کے اطراف میں بود و باش رکھتے تھے۔ یہ بتایا جا چکا ا ہے کہ آنحضرت صلی السلام نے مدینہ میں آنے پر حجاز کے ساحلی کنارے سے ملحقہ علاقہ جات میں آباد قبائل بنی خزاعہ و جہینہ وغیرہ کے ساتھ معاہدات امن و غیر جانبداری قائم کر لئے تھے اور یہ وہ علاقے ہیں جہاں سے یمن و شام کے مابین رحلة الصيف والا کاروانی راستہ گزرتا تھا۔ کاروانِ تجارت کی حفاظت کے ذمہ دار قریش ہوتے تھے اور اس خدمت حفاظت کے صلہ میں بڑی بڑی رقمیں وصول کی جاتی تھیں۔ کے تبدیل شدہ حالات میں یہ راستہ قریش کے لئے غیر محفوظ ہو چکا تھا۔ اس لئے انہوں نے مسجد کے راستوں سے قافلوں کی آمد ورفت تبدیل کر دی۔ مقام محل بھی ایک اہم تجارتی پڑاؤ تھا جہاں سے قافلے مکہ مکرمہ ، طائف، خیبر ، دومۃ الجندل اور یمامہ وغیرہ کو جاتے تھے۔ ان کاروانی راستوں کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ ابو سفیان والے تجارتی قافلہ کے نفع سے بدری قیدیوں کا فدیہ اڑھائی لاکھ درہم دیا گیا اور غزوۂ احد کی تیاری کے لئے بھی اتنی ہی رقم صرف کی گئی۔ یہ علاوہ ان رقوم کے ہے جو حصہ داران تجارت میں تقسیم ہوئی تھی۔ ابرہہ اشرم کا حملہ بھی دراصل رومی حکومت کے ایماء سے ہوا تھا تا تجارتی کاروان قریش کے توسط سے آزاد ہو کر نجاشی اور رومی حکومتوں کے قبضہ میں آجائے گے اور حفاظت کے معاوضہ کی رقوم بجائے قریش کے تاجروں کے ، تجارت کا یہ نفع ملکی دولت کا حصہ ۔ دولت کا حصہ بنے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ قیمتیں گر کر اشیائے تجارت کا نکاس بڑھے گا۔ چنانچہ رومی انجینئروں کی مدد اور روم وغیرہ کے سنگ مرمر اور سامانِ تعمیر میں صنعاء میں خانہ کا خانہ کعبہ کے مقابل میں ایک خوبصورت گر جا اس لئے بنا ! ت گر جا اس لئے بنایا گیا تھا کہ خانہ کعبہ کی اہمیت گر جائے اور عربوں کی نظریں اس طرف سے ہٹ کر صنعاء و یمن کی طرف پھریں اور قریش کا مذہبی اثر و رسوخ جاتا رہے جس کی وجہ سے انہیں تجارت کی درآمد و بر آمد پر قبضہ حاصل تھا۔ ابرہہ نے اپنے اس مقصد میں ناکامی دیکھ کر نجاشی کو لکھا کہ اسے مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے اور خانہ کعبہ منہدم کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ اس کی بربادی کے )History of the Decline and Fall of the Roman Empire بعد ہی صنعاء تجارتی مرکز بن سکتا ہے۔ Vol۔4, Chapter XLII: State of the Barbaric World, Part III) قدیم الایام سے مکہ مکر اسے مکہ مکرمہ بین الاقوامی تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا اور یہ تجارت قریش کے زیر اقتدار تھی اور اس کے لئے دو بڑے راستے تھے جن سے چھوٹے بڑے کاروانی قافلوں کے لئے گزر گاہوں کی شاخیں نکلتی تھیں۔ المغازي للواقدي، غزوة دومة الجندل، جزء اول صفحہ ۴۰۳،۴۰۲) المفصل في تاريخ العرب قبل الاسلام، الفصل الثاني والأربعون مكة المكرمة، كسب مكة، جزء صفحہ ۱۱۳) محمد صلی اعلی پیغمبر اسلام - کانسٹنٹ ورجل جیور جیو، مترجم مشتاق احمد میر ، صفحه ۲۵،۲۴)