صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 303
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی غرض امام بخاری کا غزوہ ذات الرقاع کو غزوہ خیبر سے پہلے بیان کرنا اور اسے نمبرے پر رکھنا واضح طور پر بتاتا ہے کہ اس بارے میں ان کی رائے کیا ہے۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ اُن کا رجحان تو حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت کی طرف ہو اور حوالے اور مستند روایتیں وہ نقل کریں جو اس رجحان کو رڈ کرنے والے ہوں۔اس لئے مذکورہ بالا استدلال سے متعلق یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ وہ دوسروں کا نقطہ نظر پیش کرنے کی غرض سے مذکور ہے اور اس بارے میں روایت کر وہ اقوال مسلمہ طور پر مختلف ہیں۔جیسا کہ خود امام ابن حجر" کو بھی ان الفاظ میں یہ امر تسلیم ہے: أَنَّهُم مُخْتَلِفُونَ فِي زَمَانِهَا فَالْأَوْلَى الاعْتِمَادُ عَلَى مَا ثَبَتَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ ( فتح الباری جزء۷ صفحه ۵۲۳) که غزوہ ذات الرقاع کے زمانے کی نسبت سیرت نگار مختلف ہیں۔اس لئے مناسب یہی ہے کہ صحیح حدیث سے جو امر ثابت ہو ، اس پر اعتماد کیا جائے اور ظاہر ہے کہ حضرت جابر ہی کی حدیث صحیح معلوم ہوتی ہے جس کی تائید دوسری روایتیں بھی کرتی ہیں۔ان کی حدیث میں مندرجہ ذیل باتیں واضح طور پر بیان ہوئی ہیں: (1) نماز خوف ساتویں غزوہ میں پڑھی گئی تھی جو غزوہ ذات الرقاع کے نام سے مشہور ہے۔(۲) ذات الرقاع علاقہ کا نام ہے نہ وجہ تسمیہ یعنی زخموں پر پٹیاں باندھنے کی وجہ سے۔(۳) یہ حملہ قبائل محارب و ثعلبہ پر تھا جو علاقہ ذات الرقاع میں سکونت پذیر تھے جو نخلستان تھا۔(۴) یہ نخلستان مدینہ سے دو دن کی مسافت پر وادی شرخ میں واقع تھا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۲) (۵) بدوی کا تلوار سونت کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے کا واقعہ بھی اسی سفر میں پیش آیا تھا۔(1) لڑائی نہیں ہوئی قبائلی اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے تھے۔حضرت جابر کی تائید محولہ بالا روایات عبد اللہ بن رجاء، بکر بن سوادہ اور ابن اسحاق کے علاوہ صالح بن خوات کی مستند روایت سے بھی ہوتی ہے اور امام مالک بھی اسی کے مؤید ہیں۔امام بخاری بغیر تحقیق کسی کی تتبع کرنے والے نہیں ہیں اور اس بارے میں امام ابن حجر نے دو احتمالی توجیہیں بیان کی ہیں اور لکھا ہے کہ امام بخاری نے یا تو سیرت نگاروں کا تتبع کیا ہے یا ان کے نزدیک ذات الرقاع نام کے دو واقعات الگ الگ ہیں۔ان تو جیہوں میں سے پہلی توجیہہ درست نہیں اور دوسری توجیہہ سے حقیقت الامر کی پوری وضاحت ہو جاتی ہے۔اس لئے صرف دوسری توجیہہ ہی درست ہے۔اب سوال یہ ہے کہ صلوۃ الخوف کا حکم کب نازل ہوا؟ بتایا جا چکا ہے کہ حکم سورۃ النساء میں ہے جس کے نزول کا زمانہ ۴ھ کے آخر اور ۵ھ کے شروع کا ہے۔غزوہ خیبر ے ھ میں ہوا، جو از روئے ترتیب امام بخاری بارہویں نمبر پر ہے اور صلح حدیبیہ کے بعد کا واقعہ ہے۔غرض امام بخاری کی جرح و قدح اور تحقیق سے ظاہر ہے کہ غزوہ ذات الرقاع غزوہ خیبر کے بعد نہیں بلکہ پہلے ہوا اور یہ غزوہ ساتواں ہے نہ کہ بار ہو اں اور اس میں مجدی قبائل غطفان بنو محارب و ثعلبہ پر چڑھائی کی گئی تھی۔انہی تین باتوں کی یقینی صحت بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے نئے دورِ غزوات کی غرض و غایت سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ان پے در پے یورشوں سے قبائلیوں کی غارت گری کا انسداد اور اطراف ملک میں قیام امن مقصود تھا اور اس کا طبعا لازمی نتیجہ یہ بھی ہوا کہ کاروانی راستے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تصرف