صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 24
صحیح البخاری جلد ۸ الم ۶۴ - کتاب المغازی کرتے تھے۔ اس پر تمہارے رب نے تمہاری دعاؤں کو سنا ( اور کہا کہ ) میں تمہاری مدد ہزاروں فرشتوں سے کروں گا جن کا لشکر کے بعد لشکر بڑھ رہا ہو گا۔ اور اللہ نے اس خبر کو محض ایک بشارت کے طور پر نازل کیا تھا تا کہ اس کے ذریعہ سے تمہارے دل مطمئن ہو جائیں اور مدد صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے (فرشتے تو محض ایک علامت ہیں۔) اللہ یقینا بہت غالب (اور) حکمت والا ہے۔ (ترجمہ از تفسیر صغیر) الْفِ مِنَ الْمَلائِكَةِ کا ترجمہ ہزاروں“ کے لفظ سے اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کی صفت مُردِ فِینَ آئی ہے اور اَرْدَفَ کے معنی ہوتے ہیں توالی یعنی پے در پے آیا۔ نیز کہتے ہیں : جَاءُوا ردائی یعنی وہ پے در پے آئے۔ (المعجم الوسيط (دف) اور جب کہیں اَز دَفَتْ خَيْلًا عَلَى خَيْلٍ لی تو اس کے معنی یہ ہوں گے : میری مدد کو پے در پے سوار بھیجے۔ (لسان العرب ردف) آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہاری مدد ہزاروں فرشتوں سے کروں گا۔ جن کا لشکر کا لشکر بڑھ رہا ہو گا۔ چنانچہ ملکی تصرفات ہی میں سے یہ واقعہ بھی تھا کہ جنگ بدر سے پہلے موسلا دھار بارش عین ضرورت کے وقت ہوئی جو صحابہ کرام کے لئے تو ابر رحمت ثابت ہوئی لیکن کفار قریش کے لئے زحمت کا باعث ۔ عنوانِ باب میں محولہ آیت وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطن میں لفظ الشیطن کے معنی پیاس کے بھی کئے گئے ہیں۔ چنانچہ عربی زبان میں شَيْطابُ الْفَلَا پیاس کو کہتے ہیں۔ (اقرب الموارد - شيط) رِجْزَ الشَّيْطن سے مراد شیطان کا خوف بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس کے خوف کو دور کرے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بارش نازل کر کے مسلمانوں کی پیاس بجھانے کا انتظام کر دیا اور مسلمانوں کے لئے پانی کی کمی کا خوف دور ہو گیا۔ واقعہ بدر مسلمانوں کے لئے بطور بشارت کے تھا تا اُن کے دل مطمئن ہوں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے بدر میں باوجود بے سرو سامانی کے فتح بخشی ، آئندہ بھی نصرت الہی ان کے شامل حال رہے گی۔ بدر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی کرب کی دعا بھی مسلمانوں کی حد درجہ کمزوری، ضعف اور بے بسی پر دلالت کرتی ہے اور قرآن مجید کی آیت اِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَرِهُونَ (الأنفال: ۲) سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ میں سے بعد بعض کو اپنی کمزوری کا شدید احساس تھا جس کی وجہ سے وہ ج جس کی وجہ سے وہ جنگ کرنے میں متردد تھے اور حضرت مقداد بن اسوڈ اور حضرت سعد بن معاذ کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے کہ کثیر التعداد مسلح دشمن کا مقابلہ ایک مشکل امر تھا۔ جس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام کی رائے معلوم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کیونکہ یہی وہ لوگ تھے جن کے ذریعہ سے انتقام پر تلے ہوئے مسلح قریش کے ساتھ مقابلہ کیا جاسکتا تھا۔ مہاجرین اور انصار کے اہل الرائے صحابہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عندیہ بھانپ کر آپ کو تسلی دی کہ آپ کی مرضی ہی کے مطابق عمل ہوگا۔ حضرت موسیٰ السلام کی قوم کی طرح ہم نہیں کہیں گے کہ جائیں آپ اور آپ کا رب لڑیں بلکہ ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ (روایت (۳۹۵۲) بنی اسرائیل کے مشار الیہ جواب کے لئے دیکھئے گفتی باب ۱۳، ۱۴ نیز سورۃ المائدۃ آیات ۲۲ تا ۲۷۔ シ