صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 300 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 300

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی حضرت جابر بن عبد اللہ ہی کی روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس غزوہ میں اپنی اونٹنی پر بیٹھے مشرق کی طرف منہ کئے نفل پڑھتے دیکھا۔غزوہ انمار سے متعلق اس روایت کے علاوہ اور کوئی مستند روایت امام موصوف کو نہیں ملی۔اس باب کی روایات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان غزوات کا تعلق ایک ہی زمانہ سے ہے۔امام بخاری نے غزوات نبویہ جس ترتیب سے بیان کئے ہیں اس اعتبار سے غزوہ ذات الرقاع ساتواں غزوہ ثابت ہوتا ہے اور غزوہ خبیر بار ہواں اور باقی غزوات حسب ذیل ترتیب میں واقع ہوئے ہیں: (۱) غزوہ عشیرہ۔(۲) غزوہ بدر - (۳) غزوہ اُحد۔(۴) غزوہ رجیع - (۵) غزوہ بئر معونہ۔(۶) غزوہ خندق۔(۷) غزوہ ذات الرقاع اس ترتیب کی رو سے ساتواں غزوہ فتح خیبر سے بہت پہلے ہوا تھا۔غرض امام بخاری نے دوسرے علماء کا استدلال باب ۳۱ کے ابتداء ہی میں چار حوالوں اور متعدد روایتوں سے توڑ دیا ہے۔مذکورہ بالا حوالہ جات میں ایک حوالہ بکربن سوادہ کی روایت کا بھی ہے جس میں ابو موسیٰ کی روایت کا ذکر ہے کہ حضرت جابر نے انہیں بتایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محارب و ثعلبہ کی جنگ میں انہیں نماز خوف پڑھائی۔یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نہیں بلکہ اور شخص ہیں۔ان کی شخصیت سے متعلق امام ابن حجر نے تین قول نقل کئے ہیں: اقل یہ علی بن رباح مشہور تابعی ہیں جن سے امام مسلم نے روایتیں نقل کی ہیں۔دوم حضرت ابو موسیٰ غافقی جن کا نام مالک بن عبادہ ہے ، یہ مشہور صحابی ہیں۔سوم: ابو موسیٰ کنیت کے ایک مصری شخص بھی ہیں جن کا نام معلوم نہیں۔ان کی صحیح بخاری میں سوائے مذکورہ بالا روایت کے اور کوئی روایت نہیں۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۵) یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ روایت نمبر ۴۱۲۸ جو حضرت ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے معنعن ہے۔اس میں نہ غزوہ کا نام مذکور ہے نہ قبیلہ کا جس پر چڑھائی کی گئی تھی اور اس میں یہ ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے سمیت چھ کس مجاہدین کی مختصر مہم کا نام ذات الرقاع اس لئے رکھا تھا کہ ان کے پاؤں زخمی ہو گئے تھے جس کی وجہ سے پاؤں پر کپڑا لپیٹنا پڑا۔رفع کے معنی ہیں کپڑے کا ٹکڑا، جسے پنجابی میں ٹا کی کہتے ہیں۔ذات الرفاع کے معنی ہیں ٹاکیوں والی مہم۔اور پھر اس خیال سے کہ یہ وجہ تسمیہ باعث نمود نہ ٹھہرے، وہ پچھتائے۔اس سے ظاہر ہے کہ غزوہ ذات الرقاع جو اس باب کا موضوع ہے وہ کوئی معمولی غیر معروف مہم نہ تھی بلکہ اس میں کم و بیش ہزار کے لگ بھگ لشکر تھا۔اس لئے امام بیہقی وغیرہ کا خیال درست ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کا واقعہ بنی محارب والی مہم سے بالکل الگ ہے۔ابن حجر نے بھی اس امر کا ذکر کیا اور لکھا ہے کہ امام بخاری نے غزوہ ذات الرقاع کو غزوہ خیبر سے پہلے اس لئے رکھا ہے کہ انہیں اصحاب مغازی کے ساتھ اتفاق ہے یا اس طرف اشارہ ہے کہ ممکن ہے یہ دو مختلف غزوات ہوں۔اس بارے میں ان کے الفاظ یہ ہیں: فَلَا أَدْرِى هَلْ تَعَمَّدَ ذَلِكَ تَسْلِيمًا لِأَصْحَابِ الْمَغَازِي أَنْهَا كَانَتْ قَبْلَهَا۔۔۔أَوْ إِشَارَةٌ إِلَى احْتِمَالِ أَنْ تَكُونَ ذَاتُ الرِّقَاعِ اسْمًا لِغَزُوَتَيْنِ مُخْتَلِفَتَيْنِ ( فتح الباری جزء۷ صفحه ۵۲۱)