صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 299 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 299

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۹۹ ۶۴ - کتاب المغازی اس تعلق میں یہ ذکر خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ حضرت ابو ہریرہ کی محولہ بالا روایت ابو داؤد، ابن حبان اور طحاوی نے بسند عروہ بن زبیر۔مروان بن حکم سے موصولاً نقل کی ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے پوچھا: کبھی آپ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں علاقہ مسجد میں '۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۳۵) امام ابن حجر نے اس روایت کو مطلوبہ استدلال کے لئے کمزور سمجھا ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت میں قبائل غطفان بنی محارب و ثعلبہ اور مقام غزوہ کے نام نخل، ذات الرقاع کی صراحت ہے۔اس کے علاوہ ان کی یہ روایت متعدد سندوں سے مروی ہے۔(دیکھئے روایات نمبر ۴۱۲۵ تا ۴۱۲۷، ۴۱۳۰،۴۱۳۴ تا۴۱۳۷) ان میں سے روایت نمبر ۴۱۳۶ میں صریح مذکور ہے کہ ایک بدوی کے تلوار سونے اور نماز خوف پڑھنے کا واقعہ غزوہ ذات الرقاع میں ہوا تھا۔مزید برآں روایت نمبر ۴۱۲۹، ۴۱۳۰ سے بھی جس میں لیٹ کی متابعت کا ذکر ہے مذکورہ بالا امر ہی کی تائید ہوتی ہے اور اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ بنی انمار کے لڑائی میں شریک ہونے کی وجہ سے اس غزوہ کا دوسرا نام غزوہ بنی انمار بھی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۳۰) امام مالک نے بھی معاذ بن ہشام کی سند سے جو ثقہ ہیں اسی امر کی تائید کی ہے کہ نماز خوف کی ابتداء غزوہ ذات الرقاع میں ہوئی تھی۔قَالَ مَالِكُ : وَذَلِكَ اَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي صَلاة الخوف۔اور اس بارے میں سب سے معتبر بیان وہی ہے جو حضرت جابر کی روایت میں ہے۔(روایت نمبر ۴۱۳۰) مذکورہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ غزوہ ذات الرقاع کی تاریخ وقوع سے متعلق محدثین و فقہاء اور مؤرخین کے درمیان بہت اختلاف ہوا ہے حتی کہ امام غزالی جیسے عالم بے بدل کو بھی اس بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے اور انہوں نے غزوات نبویہ میں سے آخری غزوہ ذت الرقاع کو قرار دیا ہے۔امام ابن حجر نے اس غلط فہمی کی ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ نماز خوف سے متعلق حضرت جابر کی دو روایتیں ہیں۔ایک کا تعلق ذات الرقاع سے اور دوسری کا عسفان سے۔جہاں صلح حدیبیہ کے ایام میں نماز خوف پڑھی گئی تھی۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۹) اس کے بعد فتح مکہ تک کوئی جنگ نہیں ہوئی۔کیونکہ صلح حدیبیہ میں دس سال جنگ ترک کرنے کا معاہدہ ہو گیا تھا۔مذکورہ بالا بحث کے تعلق میں ایک اور حوالہ بھی قابل وضاحت ہے۔روایت نمبر ۴۱۳۰ کے آخر میں لیث کی جس متابعت کا ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے ہشام سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف غزوہ بنی انمار میں پڑھائی تھی، یہ ہشام بن سعد مدنی ہیں اور روایت نمبر ۴۱۳۰ کے آغاز میں معاذ بن ہشام کی جس روایت کا ہشام سے مروی ہونا بیان کیا گیا، وہ ہشام دستوائی بصری ہیں۔دیار بنی انمار اور دیار بنی ثعلبہ ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں۔دونوں جگہوں میں نماز خوف پڑھی گئی ہے۔غزوہ بنی انمار کے لئے باب ۳۳ علیحدہ قائم کیا گیا ہے اور اس میں (سنن ابی داود، کتاب الصلاة، باب ۲۸۳ : من قال يكبرون جميعا وان كانوا مستدبرى القبلة) (صحيح لابن حبان، کتاب الصلاة، باب صلاة الخوف، ذکر النوع الرابع من صلاة الخوف: ۲۸۷۸) ( شرح معانی الآثار للطحاوی، کتاب الصلاة، باب صلاة الخوف، كيف هي، روایت نمبر ۱۸۷۳)