صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 301 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 301

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی اس لئے یہ قول درست نہیں کہ امام بخاری کا رجحان اس طرف ہے کہ ذات الرقاع غزوہ خیبر سے پہلے ہے۔رجحان کا سوال ہی نہیں بلکہ در اصل اس خیال کی کمزوری ثابت کرنا اُن کا مقصود ہے۔یہی بات خود ابن حجر نے بھی لکھی ہے کہ حوالہ جات سے امام بخاری کی غرض مشار الیہ استدلال کو کمزور ثابت کرنا ہے۔فتح خیبر کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری کی آمد سے غزوہ ذات الرقاع کے بارے میں استدلال امام بخاری کا نہیں بلکہ دوسروں کا ہے اور ابو موسیٰ (علی بن رباح تابعی) کے حوالے سے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ناموں کے اشتراک سے عام طور پر غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔امام ابن حجر نے الفاظ وَهِيَ بَعْدَ خَيْبَرَ لِأَنَّ أَبَا مُوسَى جَاءَ بَعْدَ خَيْبر“ سے استدلال امام بخاری کی طرف منسوب کیا ہے اور اسے درست قرار دیا ہے بلکہ ان علماء پر تعجب کیا ہے جنہوں نے سیرت نگاروں کی رائے سے اتفاق کر کے اس استدلال کو غلط قرار دیا ہے۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۵۲۲) اور مجھے یہ تعجب ہے کہ اگر مذکورہ بالا استدلال امام بخاری کا تھا تو انہوں نے جو ابواب و روایات اور واقعات میں خصوصیت سے ترتیب رکھنے والے ہیں غزوہ ذات الرقاع کو غزوہ خیبر کے بعد کیوں نہیں رکھا۔اگر فی الواقع یہ استدلال ان کا ہوتا تو اس غزوہ کا ذکر فتح خیبر کے بعد ہونا چاہیے تھا اور یہ تعجب خود ابن حجر" کو بھی پیدا ہوا ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۱) اور اس بارے میں انہوں نے دو احتمالی تو جیہیں بیان کی ہیں۔اول یہ کہ امام بخاری نے سیرت نگاروں کا تتبع کیا ہے۔دوم یہ کہ ان کے نزدیک ذات الرقاع نام کے دو الگ الگ واقعات ہیں۔ان توجیہوں میں سے پہلی توجیہہ درست نہیں کیونکہ امام بخاریؒ بغیر تحقیق کے کسی کی تتبع کرنے والے نہیں۔علاوہ ازیں امام ابن حجر نے اس بارے میں یہ بھی لکھا ہے: وَقَدِ ازْدَادَ قُوَّةٌ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةٌ وَبِحَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۳) یعنی حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے جو استدلال کیا گیا ہے، حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عمر کی روایتوں سے اس کی مزید تائید ہوتی ہے۔لیکن اس پر خود ہی یہ جرح کی ہے: لکن لا يَلْزَمُ مِنْ كَوْنِ الْغَزْوَةِ كَانَتْ مِنْ جِهَةِ نَجْدٍ أَن لَّا تَتَحَدَّدَ فَإِنَّ نَجَدًا وَقَعَ الْقَصْدُ إِلَى جِهَتِهَا فِي عِدَّةِ غَزَوَاتٍ۔۔فَيُحْتَمَلُ أَن يَكُونَ أَبُو هُرَيْرَةً حَضَرَ الَّتِي بَعْدَ خَيْبَرَ لَا الَّتِي قَبْلَ خَيْبَرَ۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۳۵) یعنی یہ لازم نہیں آتا کہ مسجد پر چڑھائی صرف ایک ہی دفعہ ہوئی ہو بلکہ کئی چڑھائیاں ہوئی ہیں۔اور ہو سکتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ اس غزوہ میں شامل ہوئے ہوں جو غزوہ خیبر کے بعد ہوا۔اس جرح سے تو امام بخاری سے متعلق ان کی رائے کالعدم ہو جاتی ہے کہ امام موصوف کا رجحان اس طرف ہے کہ غزوہ ذات الرقاع خیبر کے بعد ہوا ہے۔رہی حضرت ابن عمر کی روایت (نمبر ۴۱۳۲، ۴۱۳۳) تو اس میں کوئی تعیین نہیں کہ نجدی غزوات میں سے یہ کونسا غزوہ تھا جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ نماز خوف پڑھی۔جو شبہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے متعلق وارد کیا گیا ہے۔وہی شبہ حضرت ابن عمر کی روایت پر بھی وارد ہوتا ہے جو خود امام ابن حجر کو بھی تسلیم ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۳۵)