صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 298 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 298

حيح البخاری جلد ۸ ۲۹۸ ۶۴ - کتاب المغازی چلتا ہے کہ صلوۃ خوف کا حکم ہونے کے بعد مذکورہ بالا غزوہ ہوا۔یہ حکم سورۃ النساء میں ہے جس کا زمانہ نزول ۴ھ کا آخر ۵ھ کا شروع ہے۔لے اس سے غزوہ ذات الرقاع کی تاریخ وقوع کا اندازہ ہو سکتا ہے۔پانچواں حوالہ یزید بن ابی عبید کی روایت کا ہے جو حضرت سلمہ بن اکوع سے مروی ہے۔یہ غزوہ الگ ہے جو غزوہ ذی القرد کے نام سے مشہور ہے اس میں نماز خوف نہیں پڑھی گئی تھی۔بنو غطفان مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کر کے زکوۃ کی دور جیل اونٹیاں ہانک کر لے گئے اور حضرت سلمہ بن اکوع ان کا تعاقب کر کے ان میں سے کچھ واپس لے آئے تھے۔(دیکھئے باب ۳۷، روایت نمبر (۴۱۹۴) یہ حوالہ بھی غلط فہمی دور کرنے کی غرض سے نقل کیا گیا ہے۔اس حوالہ سے پایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ الگ ہے۔مجرد نام ذی قرد وارد ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دونوں واقعات ایک ہی ہیں۔(یح الباری جزءے صفحہ ۵۲۵) امام بخاری نے شارحین کے استدلال کو پہلے چار حوالوں سے مجروح کیا ہے اور پھر حضرت جابز کی مستند روایت پیش کی ہے۔ان میں سے پہلا حوالہ یہ ہے کہ غزوہ ذات الرقاع ساتواں غزوہ ہے ( اور غزوہ خیبر بار ہواں غزوہ تھا۔) دوسرا حوالہ ہے کہ ذو قرد میں نماز خوف پڑھی گئی۔یہ ذو قرد وہ مقام نہیں جس کا ذکر حضرت سلمہ بن اکوع کی روایت میں وارد ہوا ہے۔حضرت سلمہ بن اکوع کا واقعہ وہ ہے جس کا تعلق غابہ (مدینہ کا جنگل) سے ہے۔(دیکھئے کتاب الجہاد، باب ۱۶۶، روایت نمبر ۳۰۴۱) جبکہ یہ وہ مقام ہے جو علاقہ غطفان میں ہے۔محض نام کا اشتراک کوئی دلیل نہیں۔تیسرے حوالے میں قبیلوں کا ذکر ہے۔چوتھے حوالے میں ذات الرقاع من نخل جگہ کی تعیین ہے اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت (نمبر ۴۱۲۸) میں نہ قوم کا ذکر ہے جس پر حملہ ہوا نہ جگہ کا بلکہ محض وجہ تسمیہ مذکور ہے۔ظاہر ہے کہ معین مستند روایت کو غیر معین غیر مستند روایت پر ترجیح ہوتی ہے۔امام ابن حجر نے بھی لکھا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت میں نماز خوف پڑھنے کا ذکر بھی نہیں ہے۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۳) علاقہ مسجد پر کئی بار چڑھائی ہوئی کیونکہ یہاں کے قبائل نے متعدد بار سرکشی کی۔اگر صرف ایک ہی بار ان سے مقابلہ ہو تا تو مذکورہ بالا استدلال وقعت رکھتا۔ان کے نزدیک حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں بھی کسی معین علاقے اور قبیلے کا ذکر نہیں۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۵۲۳) اس لئے ان کی روایت معین استدلال کے لئے کافی نہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ غزوہ خیبر کے وقت آئے تھے ، اس لئے جس نماز خوف پڑھنے کا انہوں نے ذکر کیا ہے وہ وہی نماز ہو سکتی ہے جو علاقہ ذات الرقاع میں پڑھی گئی تھی اور قرین قیاس یہی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع جس کا یہاں ذکر ہے خیبر کے بعد ہوا ہو گا۔علاوہ ازیں حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں مسجد میں مطلق نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔اس میں نہ کسی معین مقام کا نام مذکور ہے اور نہ وقت کا بیان ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۴۱۳۷) غرض حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو ہریرہ دونوں کی روایتوں سے یقینی طور پر استدلال نہیں ہو سکتا کہ وہ اُس غزوہ کا ذکر کر رہے ہیں جو ذات الرقاع کے نام سے مشہور ہے۔( تفسير التحرير والتنوير لابن عاشور ، تفسير سورة النساء، جزء ۴ صفحه ۲۱۱)