صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 297
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۹۷ ۶۴ - کتاب المغازی غرض الفاظ محارب خصفہ سے بتایا گیا ہے کہ یہ قبیلہ وہ نہیں جو محارب فہری کی طرف منسوب ہوتا ہے بلکہ قیس عیلان والا قبیلہ ہے۔الفاظ مِن بَيني ثَعْلَبَةَ مِن غَطفان سے مزید تحقیق کی گئی ہے جس سے قابی کی روایت کا رق مقصود ہے جس میں خَسَفَةَ بْنَ ثَعْلَبہ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں جن سے غلط نہی پیدا ہوتی ہے۔اس تعلق میں ابن اسحاق وغیرہ کی روایت ہی درست ہے جس میں الفاظ وَبَنِي ثَعْلَبَةَ مِنْ غَطَفَات ہیں۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۲) عنوان باب کے بعد پانچ حوالے مذکور ہیں۔پہلے حوالے (یعنی روایت نمبر ۴۱۲۵) میں صراحت ہے کہ غزوہ ذات الرقاع ساتویں مہم ہے۔جو ۴ ھ کے آخر میں اور غزوہ خیبر سے بہت پہلے ہوئی۔(عمدۃ القاری جزء۷ اصفحہ ۱۹۳) حضرت ابو موسیٰ اشعری اس غزوہ میں شریک ہوئے تھے جس کا نام انہوں نے ذات الرقاع بیان کیا اور بتایا گیا ہے کہ اس میں انہوں نے نماز خوف پڑھی تھی۔وَهِيَ بَعْدُ خَيْبَرَ لِأَنَّ أَبَا مُوسَى جَاءَ بَعْدَ خَيْبَرَ۔چونکہ وہ حبشہ سے فتح خیبر کے وقت لوٹے تھے اس لئے اُن کے بیان سے ظاہر ہے کہ یہ غزوہ ذات الرقاع وہ مہم ہے جو غزوہ خیبر کے بعد ہوئی۔مذکورہ بالا فقرے کا یہ مفہوم سمجھنے میں امام ابن حجر وغیرہ شارحین کو وقت محسوس ہوئی ہے اور انہوں نے اس واقعہ سے اپنا استدلال مذکور درست سمجھا ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۲) لیکن فقره وَهِي بَعْدُ خَيْبَرَ کا اسلوب بتاتا ہے کہ امام بخاری نے حضرت ابو موسی والے غزوہ ذات الرقاع کا وقوع غزوہ خیبر کے بعد قرار دیا ہے۔ان کے نزدیک یہ غزوہ نخل والا ذات الرقاع نہیں۔دوسرے حوالہ میں علاقے کا نام ذی قرد مذکور ہے۔یہ مقام بھی مسجد ہی میں ہے۔تیسرا حوالہ (یعنی روایت نمبر ۴۱۲۶) بکر بن سوادہ کے قول کا ہے جس میں الفاظ يَوْمَ مُحَارِبٍ وَ ثَعْلَبَةَ مذکور ہیں۔ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں قبیلے مد مقابل تھے۔اس تخصیص و تشریح سے ہمیں لڑنے والے قبیلے کی اہمیت معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔چوتھے حوالے (یعنی روایت نمبر ۴۱۲۷) سے بھی اسی امر کی تائید ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی طرف کوچ کیا تھا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۵) ابن اسحاق کی روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ نخل مقام میں اُترے۔" یہ مقام قبائل غطفان کے مجدی علاقہ میں واقع ہے۔فقرہ خَرج إِلَى ذَاتِ الرِّفَاعِ میں لفظ ذات سے پہلے لفظ غزوۃ محذوف ہے یعنی آپ اس جنگ میں نکلے جو ذات الرقاع کے نام سے مشہور ہے۔مغازی کی روایات میں صراحت ہے کہ ذات الرقاع مقام رقاع نامی پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۳، ۵۲۵) رفعة کے معنی بقعة یعنی قطعه زمین (اقرب الموارد - رقع) اور اس روایت (نمبر ۴۱۲۷) میں یہ بھی ذکر ہے کہ وہاں لڑائی نہیں ہوئی بلکہ لوگ ادھر اُدھر منتشر ہوگئے اور اس اندیشہ سے کہ مبادا ان کی طرف سے اچانک حملہ ہو ، نماز خوف پڑھی گئی۔اس روایت سے کم از کم یہ ضرور پتہ (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة ذات الرقاع، جزء ۳ صفحه ۱۵۵) (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة ذات الرقاع، جزء ۳ صفحہ ۱۵۷)