صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 296 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 296

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۹۶ ۶۴ - کتاب المغازی قیس عیلان کی طرف منسوب نہیں ہوتے تھے بلکہ مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان کی طرف ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۱، ۵۲۲) دونوں قبیلوں کا جد امجد ایک ہی تھا۔ الیاس و قیس عیلان ایک ہی باپ ( مصر ) کے بیٹے تھے۔ ان کی اولاد کا خلاصہ نسب نامہ یہ ہے: مضر بن نزار بن معد بن عدنان الياس الناس فهر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدر که قیس (عیلان) غالب حارث محارب سعد خصفه قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي غطفان علقان محارب عبد مناف ریت منصور عبد الله بن عبد المطلب بن باشم بغيض هوازن سلیم میں ذبیان ات محمد مصطفی صلی الله علم ثعلبہ بن سعد الیاس بن مضر سے قبائل قریش بنی فہر کی نسل چلی اور قیس عیلان) بن الناس بن مضر سے قبائل ہو ازن ، سلیم، غطفان، عبس و ذبیان کی نسل چلی۔ دونوں نسلوں میں شدید رقابت تھی۔ قبائل قیس عیلان نے مسجد کے طول و عرض اور اس کے اطراف میں سکونت اختیار کی اور الیاس بن مضر کی اولاد مکہ اور اس کے مضافات میں ہے۔ فہر بن مالک کے دوسرے دو بیٹوں کا نام غالب اور حارث ہے۔ غالب کا بیٹا لوئی ہے اور اس کی نسل سے قصی ہے۔ جن قبائل نے سیل ارم کی تباہی کے بعد یمن سے ہجرت کی، اُن میں سے قبیلہ خزاعہ مکہ سے قبیلہ جرہم کو نکال کر اس پر قابض ہو گیا تھا۔ پھر قریش میں سے قصی بن کلاب نے خزاعہ کو مغلوب کر کے اسے ساحل قلزم کے ملحقہ علاقے مر (وادی فاطمہ ) میں سکونت اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ قبیلہ خزاعہ مکہ مکرمہ پر تین سو سال قبضہ رکھ سکا۔ اے خزاعہ دراصل لقب ہے حارث کا جو عمرو کا بیٹا تھا۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب المناقب باب ۷،۲، ۹ مع تشریح۔ (أخبار مكة للأزرق، باب ما جاء فى ولاية قصى بن كلاب البيت الحرام ، جزء اول صفحه ۱۰۳) ( تاریخ شبه الجزيرة العربية ، الفصل ١٦: تحول مركز الثقل إلى أواسط الحجاز في مكة ويثرب، صفحه ۲۰۱)