صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 295
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۹۵ ۶۴ - کتاب المغازی أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مجھ سے تمہیں بچائے گا؟ آپ نے فرمایا: اللہ ۔ نبی وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اس کو دھمکایا۔ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوْا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ اور نماز کی تکبیر ہوئی تو آپؐ نے ایک گروہ کو دو الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ رکعتیں پڑھائیں۔ پھر وہ پیچھے ہٹ گئے اور آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ۔ نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں۔ و رکعتیں پڑھائیں۔ نبی صلی اللہ دوم کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو دو۔ صا می وَقَالَ مُسَدَّدٌ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ اور مسدد نے کہا: انہوں نے ابوعوانہ سے، أَبِي بِشْرٍ اسْمُ الرَّجُلِ غَوْرَثُ بْنُ ابو عوانہ نے ابو بشر سے روایت کی کہ اس شخص کا الْحَارِثِ وَقَاتَلَ فِيهَا مُحَارِبَ خَصَفَةً نام غورث بن حارث تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگ میں محارب خصفہ سے مقابلہ کیا تھا۔ اطرافه ۲۹۱۰ ، ۲۹۱۳، ۴۱۳۴، ۴۱۳۵ ٤١٣٧: وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ۴۱۳۷: اور ابوزبیر نے کہا: حضرت جابر سے كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت ہے کہ ہم نبی صلی علیم کے ساتھ محل مقام بِنَخْلٍ فَصَلَّى الْخَوْفَ۔ اطرافه: ۴۱۲۵، ۴۱۲۶، ۴۱۲۷، ۴۱۳۰ الله میں تھے اور آپ نے وہاں نماز خوف پڑھائی۔ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ اور حضرت ابوہریرہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ نَجْدٍ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ مسجد میں نمازِ خوف پڑھی صَلَاةَ الْخَوْفِ وَإِنَّمَا جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ بحالیکہ حضرت ابو ہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے إِلَى النَّبِيِّ لا أَيَّامَ خَيْبَرَ۔ پاس غزوہ خیبر کے ایام میں آئے تھے۔ تشریح : غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ : اس باب کے اس باب کے عنوان اور حوالہ جات سے ظاہر ہے ؟ ظاہر ہے کہ غزوہ ذات الرقاع کے نام اور اس کی تاریخ وقوع وغیرہ کی نسبت اختلاف ہے۔ یہ بر سر پیکار قبیلے اپنے آپ کو محارب نام سے منسوب کرتے تھے۔ ایک قبیلہ محارب بن فهر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مصر بھی تھا جس کا سلسلہ نسب قریش سے ملتا تھا۔ اس قبیلے میں سے حبیب بن مسلمہ ہیں جن کا ذکر روایت نمبر ۴۱۰۸ کے آخر میں ہے۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے کہا: آپ فتنہ سے بچائے گئے ہیں۔ محارب کو خصفہ کی طرف مضاف کر کے توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ قبیلہ محارب جس کی جنگ کا ذکر ہے وہ قبیلہ نہیں جو بنو فہر میں سے ہے۔ بنو فہر