صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 23
صحیح البخاری جلد ۸ يَعْنِي قَوْلَهُ۔ طرفه ۴۶۰۹ ۲۳ ۶۴ - كتاب المغازی دیکھا کہ آپؐ کا چہرہ چمکنے لگا اور مقداد کی اس بات نے آپ کو خوش کر دیا۔ ٣٩٥٣: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدِ اللَّهِ ۳۹۵۳: محمد بن عبد اللہ بن حوشب نے مجھے بتایا: بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عبد الوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ خالد ( حذاء) نے ہمیں بتایا: انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ حضرت ابن عباس سے روایت کی، کہتے تھے: نبی قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلى الم نے بدر کی لڑائی کے دن ( اللہ تعالی سے ) يَوْمَ بَدْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ دعا کرتے ہوئے عرض کیا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَد تیرا عہد اور وعدہ پورا کرنے کی التجا کرتا ہوں۔ اے اللہ ! اگر تیری یہی منشاء ہے کہ تیری عبادت نہ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُكَ کی جائے۔ اس پر حضرت ابو بکر نے آپ کا ہاتھ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ تھام لیا اور کہا: بس کیجئے (جو دعا آپ کر چکے ہیں وہی وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۔ اطرافه ۲۹۱۵، ۴۸۷۵، ۴۸۷۷۔ کافی ہے۔ پھر آپ (خیمے سے) باہر نکلے اور یہ فرما رہے تھے: عنقریب یہ جمعیت شکست کھا کر بھاگ جائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر لیں گے۔ تشريح : إِذْ تَسْتَغِيتُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ : اس باب کے شروع میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس سے صحابہ کرام کی حالت بے بسی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو لڑائی میں ان کے لئے بڑی روک تھی۔ اس حالت ضعف و کمزوری میں انہیں جنگ کرنے کا خیال تک نہیں آسکتا تھا۔ اس باب کی روایتوں سے بھی یہی امر ثابت کرنا مقصود ہے کہ صحابہ کرام کا خیال شام سے آنے والے تجارتی قافلے سے مقابلہ کے متعلق ایک طبعی امر تھا۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو قریش کی مسلح فوج سے مقابلہ کرنے کے اہل نہیں پاتے تھے۔ امام بخاری نے باب کے شروع میں جو آیت قرآنی لکھی ۔ بھی ہے اس کے شروع میں اِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ کے الفاظ ہیں ہیں اور اسْتِغَاثَةٌ کے معنی ہیں فریاد کرنا اور ظلم کی داد رسی کا مطالبہ کرنا۔ پوری آیت یہ ہے : اِذْ تَسْتَغِيتُونَ رَبَّ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي ميدكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَكَةِ مُرْدِ فِيْنَ وَمَا جَعَلَهُ اللهُ إِلَّا بُشْرَى وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ أَ (الأنفال: ۱۰، ۱۱) یعنی (اس وقت کو بھی یاد کرو) جبکہ تم اپنے رب سے التجائیں