صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 289 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 289

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۸۹ ۶۴ - كتاب المغازی ٤١٢٧ : وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ سَمِعْتُ ۴۱۲۷ اور ابن اسحاق نے کہا: میں نے وہب بن وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ سَمِعْتُ جَابِرًا خَرَجَ کیسان سے سنا۔ (وہ کہتے تھے:) میں نے حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جابر سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نحل کے مقام ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ فَلَقِيَ جَمْعًا سے ذات الرقاع کو گئے اور وہاں غطفان کی ایک مِنْ غَطَفَانَ فَلَمْ يَكُنْ قِتَالٌ وَأَخَافَ جمیعت سے مقابلہ ہوا۔ کوئی لڑائی نہیں ہوئی اور النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَصَلَّى النَّبِيُّ لوگوں نے ایک دوسرے کو دھمکی دی تھی ۔ بی سلام علیکم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْخَوْفِ نے نماز خوف کی دو رکه خوف کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ وَقَالَ يَزِيدُ عَنْ سَلَمَةَ غَزَوْتُ مَعَ اور یزید نے حضرت سلمہ بن اکوع) سے روایت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقَرَدِ۔ کرتے ہوئے کہا کہ میں قرد کی مہم میں حملہ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا تھا۔ اطرافه: ۴۱۲۵، ۴۱۲۶، ۴۱۳۰، ۴۱۳۷ ٤١٢٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۴۱۲۸ : محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ نے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے برید بن عبداللہ بن عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ الى بردہ سے، انہوں نے (اپنے دادا) ابو بردہ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سے بیان کیا، کہا: ہم ایک حملہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ نکلے اور ہم چھ آدمی تھے۔ ہمارے پاس فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيْرٌ ایک مشترکہ اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار نَعْتَقِبُهُ فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ ہوتے ۔ ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے دونوں وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي وَكُنَّا نَلُفُ عَلَى پاؤں بھی پھٹ گئے اور میرے ناخن گر گئے اور ہم أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ اپنے پاؤں پر کپڑوں کے ٹکڑے لیٹتے تھے۔ اس لئے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع (یعنی چیتھڑوں الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ والی لڑائی) رکھا گیا۔ کیونکہ ہم کپڑوں کے ٹکڑے عَلَى أَرْجُلِنَا ۔ وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا اپنے پیروں پر باندھتے تھے اور حضرت ابو موسیٰ الْحَدِيْثِ ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ قَالَ مَا كُنْتُ (اشعری) نے یہ واقعہ بیان کرنا ناپسند کیا۔ کہنے لگے: