صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 288 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 288

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۸۸ ۶۴ - کتاب المغازی کی بہم رسانی اور دولت کی فراوانی کا ذریعہ تھیں۔ غزوہ خندق کے باعث جو مہمات پیش آئیں وہ اس نوعیت کی تھیں کہ جن کے ذریعہ یہ گزر گاہیں آنحضرت صلی الہ علم کے زیر تصرف آگئیں جس سے سے نہ نہ صرف صرف ف قریش بلکہ سارا عرب ہی بے بس ہو کر خود بخود آپ کے قدموں میں آگرا۔ آئندہ ابواب میں اسی نوعیت کی مہمات کا ذکر ہے۔ بَاب ۳۱ : غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ غزوة ذات الرقاع وَهِيَ غَزْوَةُ مُحَارِبِ خَصَفَةَ، مِنْ اور یہ چڑھائی قبیلہ محارب پر تھی جو خصفہ ( کی اولاد ) بَنِي ثَعْلَبَةَ مِنْ غَطَفَانَ فَنَزَلَ نَخْلًا تھا۔ (اور یہ غزوہ) بنو ثعلبہ سے (بھی) تھا جو غطفان وَهِيَ بَعْدَ خَيْبَرَ لِأَنَّ أَبَا مُوسَى جَاءَ کی ایک شاخ تھا۔ آپ مقام محل اترے۔ اور یہ بَعْدَ خَيْبَرَ۔ واقعہ خیبر کی جنگ کے بعد ہوا۔ کیونکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری) جنگ خیبر کے بعد آئے تھے۔ ٤١٢٥ : وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ۴۱۲۵ : اور عبد اللہ بن رجاء نے کہا: عمران قطان أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ چیا نے ابو سلمہ (بن عبد الرحمن) سے، ابوسلمہ نے عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں مہم میں صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فِي یعنی غزوة ذات الرقاع میں اپنے صحابہ کو غَزْوَةِ السَّابِعَةِ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ۔ نماز خوف پڑھائی۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَّى النَّبِيُّ ا حضرت ابن عباس کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَعْنِي صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ۔ نے نماز خوف مقام ذی قرد میں پڑھائی۔ اطرافه: ۴۱۲۶، ۴۱۲۷، ۴۱۳۰، ۴۱۳۷۔ ٤١٢٦ : وَقَالَ بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ۴۱۲۶ اور بکر بن سوادہ نے کہا: زیاد بن نافع نے حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِي مُوسَى مجھے بتایا کہ ابو موسیٰ (علی بن رباح تابعی) سے أَنَّ جَابِرًا حَدَّثَهُمْ صَلَّى النَّبِيُّ الا الله مروی ہے کہ حضرت جابرؓ نے ان سے بیان کیا: نبی بِهِمْ يَوْمَ مُحَارِبٍ وَثَعْلَبَةَ۔ اطرافه : ۴۱۲۷۴۱۲۵، ۴۱۳۰، ۴۱۳۷ صلی اللہ علیہ وسلم نے محارب اور ثعلبہ کی مہم میں اپنے صحابہ کو (خوف کی) نماز پڑھائی تھی۔