صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 287 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 287

حیح البخاری جلد ۸ ۲۸۷ ۶۴ - کتاب المغازی بنی اوس کی سفارش پر انہیں یہ مختصر سا جواب دیا کہ یہ وہ وقت ہے کہ سعد ملامت سے بے خوف ہو کر حق و انصاف ہی کا فیصلہ کرے گا۔علامہ طبری نے ان کے الفاظ ان معنوں میں نقل کئے ہیں۔! امام بخاری نے روایت نمبر ۴۱۲۲ کے آخر میں ہشام بن عروہ کا حوالہ یہی امر ذہن نشین کرانے کے لئے نقل کیا ہے کہ حضرت سعد بن معاذ کی حالت زخم کی وجہ سے نازک تھی اور ان کا آخری وقت تھا اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے خالص جذبات ان پر غالب تھے ، انہیں دنیا میں زندہ رہنے کی خواہش صرف اس لئے تھی کہ اگر دشمنوں سے اور جنگ مقدر ہو تو اس میں شریک ہونے کا انہیں موقع نصیب ہو ، ورنہ شہادت کی یہ موت ان کی محبوب ترین شے تھی اور رضائے الہی کے خالص جذبات سے ان کا دل معمور تھا۔ان نازک لمحات میں جو فیصلہ انہوں نے صادر کیا، وہ کسی صورت میں بھی خلاف انصاف نہیں ہو سکتا تھا۔حضرت سعد حالات سے بخوبی واقف تھے اور انہوں نے علی وجہ البصیرت ہو کر فیصلہ صادر کیا تھا اور جو اعتراض کرنے والے ہیں، وہ زمانہ نبوی سے بہت دور ، واقعات کے ماحول سے منقطع اور اپنے مخصوص جذبات کی دنیا میں مفقود ہیں۔ان کے اعتراض کی جو وقعت بمقابلہ حضرت سعد ہو سکتی ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور یہ امر بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ ان کا فیصلہ خود بنو قریظہ کے مسلمات اور ان کی شریعت کے بالکل مطابق تھا۔ہشام بن عروہ کی محولہ بالا روایت کتاب مناقب الانصار، باب ۴۵ میں گزر چکی ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۳۹۰۱) اس روایت کا اُس روایت سے پیوند بلا وجہ نہیں۔فَا نُفَجَرَتْ مِنْ لَبَتِهِ: زخم سینے سے کھل گیا۔کہہ سینے کے اگلے حصہ کو کہتے ہیں جہاں ہار ڈالا جاتا ہے۔انکل شریان بازو جس کا تعلق دل اور پھیپھڑے سے ہوتا ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۱۸) ( تاج العروس - بھر ، کحل) معلوم ہوتا ہے کہ یہ زخم مسموم ہو کر پھیل گیا تھا۔انگریزی میں اسے Brachial Artery کہتے ہیں اور عربی میں عرق الحیات۔اس شریان سے کئی شاخیں نکلتی ہیں بعض پیٹھ کی طرف جنہیں انبھر کہتے ہیں اور بعض کمر کے نچلے حصہ کی طرف۔انہی رگوں میں سے ایک رگ کا نام عرق النساء ہے۔حضرت سعدہ کی دعا اس لحاظ سے قبول ہوئی کہ غزوہ خندق دفاعی جنگوں کے اعتبار سے آخری جنگ تھی جو قریش مکہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان واقع ہوئی۔جیسا کہ آپ نے بھی احزاب کے چلے جانے کے بعد فرمایا: اب وہ ہم پر حملہ نہیں کریں گے ہم ان پر حملہ کریں گے ( روایت نمبر ۴۱۰۹، ۴۱۱۰) تین بار زکٹ کھانے پر قریش کے حوصلے پست ہو گئے اور امساک باراں اور شدت قحط کی وجہ سے ملک کی اقتصادی حالت سخت بگڑ گئی۔مجدی قبائل کی شر انگیزی و فتنہ پردازی نے محاذ جنگ کو مدینہ سے ایسے علاقوں کی طرف منتقل کر دیا جن میں تجارتی قافلوں کی گزر گاہیں تھیں۔قریش کی دولت مندی کا انحصار تجارت پر ہی تھا۔سورۂ ایلاف ( قریش) میں اس کا ذکر بطور احسان الہی رِحْلَةُ الشتاء والصيف کے الفاظ میں کیا گیا ہے یعنی قریش کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وادی غیر ذی زرع کے باشندوں کو گھر بیٹھے رزق وافر مہیا کیا جارہا ہے۔تجارتی گزر گاہیں نہ صرف قریش بلکہ سارے عرب کے لئے رسد۔(تاريخ الطبري، السنة الخامسة من الهجرة، غزوة بنی قریظة، جزء ۲ صفحه ۵۸۷)