صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 286
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۸۶ ۶۴ - کتاب المغازی بنو قریظہ کے محاصرہ کی مدت سے متعلق اختلاف ہے۔موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو مقدمہ ابجیش کا امیر مقرر کر کے انہیں علم سپر د کیا اور ان کے بعد آپ روانہ ہوئے اور دس بارہ دن بنو قریظہ کا محاصرہ رہا۔(فتح الباری جزء کے صفحہ ۵۱۶) ابن سعد نے محاصرہ کی مدت پندرہ دن بتائی ہے۔اور ابن اسحاق نے پچیس دن اور لکھا ہے ( حَتَّى جَهَدَهُمُ الْحَصَارُ وَقَذَفَ اللهُ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ۔۔۔) یہاں تک کہ جب بنو قریظہ محاصرہ سے تنگ آگئے اور مرعوب ہو گئے تو ان کے سردار کعب بن اسد نے اپنی قوم کے سامنے تین تجویزیں پیش کیں: (اول) اسلام قبول کر لیا جائے۔(دوم) عورتوں اور بچوں کو ختم کر کے میدانِ جنگ میں جان کی بازی لگائی جائے۔(سوم) آج رات مسلمانوں پر شب خون مارا جائے۔یہودیوں نے کہا: آج رات تو سبت کی ہے شب خون جائز نہیں۔بیوی بچوں کو قتل کرنے کے بعد زندگی کس کام کی اور اسلام قبول کرنے کا سوال ہی نہیں۔یہ تینوں تجویزیں نا قابل التفات ہیں اور حضرت ابولبابہ بن عبد المندر انصاری مشورہ طلب کرنے کے لئے بلائے گئے جن کے وہ حلیف تھے اور ان سے پوچھا کہ آیا محمد صلی للی نیم کے فیصلے پر وہ اپنے آپ کو سپرد کر دیں۔انہوں نے جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے، حلق کی طرف اشارہ کیا کہ قتل ہو نا ہو تو ایسا کر لو۔بعد میں ان کو اپنے اس غلط مشورہ پر سخت ندامت ہوئی کہ جیسا کہ سیرت ابن ہشام کے حوالہ سے بتایا جا چکا ہے۔صحیح بخاری میں یہ تفصیلات نہیں۔مؤرخین اور مصنفین مغازی نے اس قسم کی روایات قبول کر کے غزوہ بنی قریظہ کے حالات درج کئے ہیں۔روایت نمبر ۴۱۲۱ میں یہ الفاظ بیان ہوئے ہیں : قَضَيْتَ۔۔۔بِحُكْمِ الْمَلِكِ یعنی تم نے شاہی حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔اس روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ جو منقول ہیں، مستند ہیں۔میثاق مدینہ کی رو سے بنو قریظہ ایک جمہوری نظام کے تحت تھے اور وہ شہری امن و سلامتی کے لئے اسی طرح ذمہ دار تھے جس طرح باقی باشندے۔نہایت ہی خطرناک حالات میں جبکہ شہر کے باشندے موت کے جبڑوں میں تھے بجائے اپنی ذمہ داری پوری کرنے اور دفاع مدینہ میں شریک ہونے کے انہوں نے معاہدہ توڑ دیا اور کھلے بندوں اپنے شہریوں کے گلے کاٹنے کیلئے دشمنوں کی صفوں میں داخل ہو گئے۔یہ ایک کھلی باغیانہ کارروائی تھی۔ہر ملک کے قانون میں آج تک باغیوں کی یہی سزا ہے کہ وہ تہ تیغ کئے جائیں یا گولی سے اُڑائے جائیں۔مکرم صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب (ایم۔اے) نے اس سلسلہ میں مخالفین کے اعتراضوں سے متعلق سیر کن بحث کی ہے۔(دیکھئے سیرت خاتم النبین ملی ایم ، غزوہ بنو قریہ، صفحہ ۶۰۴ تا ۶۱۳) اور علامہ شبلی نعمانی نے بھی مختلف اعتراضات کے جوابات بہت معقولیت سے دیئے ہیں۔(دیکھئے سیرت النبی صلی علیکم ، بنو قریظہ کا خاتمہ ، جلد اول صفحه ۲۴۷ تا ۲۵۱) مذکورہ بالا جوابات کا خلاصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دو فقروں میں سمویا ہوا ہے: قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللهِ۔۔۔بِحُكْمِ الْمَلِكِ اور حضرت سعد نے اپنے قبیلہ الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الى بني قريظة، جزء ۲ صفحہ ۷۱،۷۰) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بني قريظة ، قصة أبي لبابة ، جزء ۳ صفحه ۱۸۶ تا ۱۸۸)