صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 285
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۸۵ ۶۴ - کتاب المغازی میں منقول ہیں ۔ اور واقعات کے لحاظ سے ان میں کوئی فحش کلمہ نہیں۔ آٹھویں روایت (نمبر ۴۱۲۴) الفاظ وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طُهْمَانَ عَنِ الشَّيْبَانِی سے شروع ہوتی ہے۔ نسائی نے اس روایت کی سند موصولاً نقل کی ہے کے جو امام بخاری کی شرط کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۰) روایت نمبر ۴۱۱۸ میں حضرت انس کا بیان ہے: كَأَنِي أَنْظُرُ إِلَى الْغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُفَاقِ بَنِي غَنْمٍ - یہ روایت کتاب بدء الخلق باب ۶ میں گزر چکی ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۳۲۱۴) قبیلہ بنو غنم انصاری تھا۔ روایت میں جبرائیل کی طرف لشکر منسوب کیا گیا ہے کیونکہ ان کے حکم سے بنو قریظہ پر چڑھائی کی گئی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ ابن سعد نے اس تعلق میں حمید بن ہلال کی ایک مبسوط روایت نقل کی ہے کہ بنون ہے کہ بنو قریظہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ حلف تھا۔ جب احزاب آئے تو ، احزاب آئے تو انہوں نے یہ معاہدہ توڑ دیا اور ان کی مدد کی۔ جب احزاب کو شکست ہوئی تو جبرائیل علیہ السلام اور ان کے ساتھی فرشتے آئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اُنھیں بنو اللہ ! اٹھیں بنو قریظہ کی طرف چلیں۔ آپؐ نے آپؐ نے فرمایا: میرے ساتھی تھکے ما تھکے ماندے ہیں۔ جبرائیل نے کہا: اُٹھیں ان کے قلعوں کی طرف چلیں، فَلا ضَعْفِعَنَّهَا ( میں ان کو بیخ و بن سے اکھیڑ دوں گا۔) جبرائیل اور فرشتے یہ کہہ کر چلے گئے اور ان کے لوٹنے پر انصار بنی غنم کے گلی کوچوں میں غبار اُٹھا۔ ۳۔ ں میں غبار اُٹھا۔ ہے یہ روایت ۔ یہ روایت مرسل ہے۔ حضرت انس کا اس میں ذکر نہیں۔ باب کی اس روایت (نمبر ۴۱۱۸) سے ابن سعد کی روایت کی صحیح مقصود ہے۔ گانی انظُرُ کے الفاظ حضرت انس کے ہیں کہ یہ واقعہ مجھے ایسا یاد ہے کہ گویا میں یہ غبار اب بھی دیکھ رہا ہوں جو اسلامی لشکر کی وجہ سے بنو غنم کی گلیوں میں اُٹھا تھا۔ جبرائیل اور ملائکہ ارواح لطیفہ ؟ مہ ہیں جو کشفا نظر آتے ہیں لیکن حضرت انس نے اپنے کسی مکاشفہ کا ذکر نہیں کیا بلکہ آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کیا اور ) بیان کیا اور اسلامی لشکر کو بطور مجاز جبراً لشکر کو بطور مجاز جبرائیل کی طرف منسوب کیا ہے۔ بعض راویوں را نے غلط فہمی سے مجاز کو حقیقت پر محمول کر کے روایت میں اضافہ کر دیا ہے ۔ قتادہ کی ایک روایت میں جو مرسل ہے فوجی رسالہ بجائے جبرائیل کے اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِى يَا خَيْلَ اللهِ ارْكَى ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۱۶) یعنی آپ نے ایک منادی کو بھیجا کہ اعلان کرے: اے اللہ کے سوارو! گھوڑوں پر سوار ہو جاؤ۔ الفاظ مَوْكِبَ جِبْرِيلَ سے پہلے حرف جر من محذوف ہے یا فعل ” امنی“ حضرت انس کہتے ہیں کہ میری مراد وہ غبار ہے جو اس لشکر کی چڑھائی سے اُٹھا تھا جو جبرائیل کی ہدایت کے تحت تیار ہوا تھا۔ ابن سعد میں اس لشکر کی تعداد تین ہزار مجاہد بتائی گئی ہے جن میں چھتیں سوار تھے۔ امام بخاری کی روایات میں تعداد کا ذکر نہیں۔ مذکورہ بالا لشکر کی تعداد ہزار ڈیڑھ ہزار مجاہدین سے زیادہ نہ تھی کیونکہ زیادہ سے زیادہ یہی تعداد مجاہدین غزوہ احزاب کی تھی اور غزوہ بنی قریظہ اسی تسلسل میں تھا۔ ا (السيرة النبوية لابن هشام ، ما قيل من الشعر فى أمر الخندق وبنى قريظة، جزء ۳ صفحه ۲۰۳ تا ۲۱۸) (السنن الكبرى للنسائى، كتاب المناقب، باب حسان بن ثابت ، روایت نمبر ۸۲۳۶، جزءے صفحہ ۳۶۶) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الى بني قريظة، جزء ۲ صفحه ۷۳) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الى بني قريظة، جزء ۲ صفحہ ۷۰) دو