صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 284 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 284

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۸۴ ۶۴ - کتاب المغازی پاتے ہو۔اسے مان کر تم امن میں رہو گے اور اپنے خون اور اموال اور اپنے بیٹوں اور اپنی عورتوں کو محفوظ رکھو گے۔انہوں نے کہا: ہم تورات کے حکم سے کبھی الگ نہیں ہوں گے اور نہ اس کے بدلے میں کسی غیر کو قبول کریں گے۔اس حوالے سے ظاہر ہے کہ ان کے اپنے حلیفوں نے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ بنو قریظہ سے نرمی برتی جائے اسی طرح وہ خود بنو قریظہ کو بھی نیک مشورہ دیتے رہے مگر وہ اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار تو کجا دشمنوں سے مل کر مرنے مارنے کے لئے تیار ہو گئے۔مدینہ کے یہودیوں کو قبل از وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعض واقعات کا ذکر کر کے ضمنا سمجھایا جا چکا تھا کہ جس طرح ان کے آباء و اجداد نے تو بہ سے فائدہ اُٹھایا، وہ بھی اُٹھا سکتے ہیں اور انہیں صراحت سے آگاہ کیا گیا تھا کہ وقت آنے کو ہے کہ کوئی جان کسی جان کے کام نہیں آئے گی اور نہ سفارش قبول کی جائے گی اور نہ معاوضہ، اس دن سے بچو۔(البقرۃ:۴۹، ۱۲۴) اس تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقہ عمل کا ذکر بھی پہلے گزر چکا ہے کہ انتہائی قدم اُٹھانے سے قبل ہر دشمن کو جان و مال بچانے اور صلح کی دعوت دی جاتی اور تو بہ اور قبول اسلام کا موقع بھی دیا جاتا تھا۔کعب بن اسد سردار قریظہ نے جو اپنے قبیلے کے سامنے مذکورہ بالا پیشکش کی، وہ بلا وجہ نہ تھی بلکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایماء تھا۔چنانچہ ( ان کی تحریک سے) بعض اُن کے چچازاد بھائیوں ثعلبہ بن سعیہ ، اسید بن سعیہ اور اسد بن عبید نے جو قبیلہ بنی ہدل میں سے تھے ، فائدہ اُٹھایا۔اسی طرح عمرو بن سعدی قرظی وغیرہ نے بھی۔ساتویں اور آٹھویں روایت (نمبر ۴۱۲۳، ۴۱۲۴) حضرت براء بن عازب کی ہے جو دوسندوں سے یہ اختلاف الفاظ مروی ہے۔ایک میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان سے غزوہ بنی قریظہ کے موقع پر فرمایا کہ ان کی ہجو کرو۔دوسری میں ہے کہ مشرکین کی ہجو کرو، جبرائیل کی تائید تمہارے ساتھ ہو گی۔ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ غزوہ احزاب میں کفار کے راہ فرار اختیار کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ يَحْمِي أَعْرَاضَ الْمُسْلِمِينَ؟ مسلمانوں کی عزت کا کون دفاع کرے گا ؟ تو حضرت کعب بن مالک، حضرت عبد اللہ بن رواحہ اور حضرت حسان بن ثابت کھڑے ہو گئے تو آپ نے حضرت حسان سے فرمایا: اُهْجُهُمْ أَنْتَ فَإِنَّهُ سَيُعَيِّنُكَ عَلَيْهِمْ رُوحُ القديس : تم ان کی ہجو کرو ان کے مقابل میں روح القدس تمہاری مدد کرے گا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۲۰) امام ابن حجر نے یہ حوالہ نقل کر کے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے کہ کوئی امر مانع نہیں کہ دونوں موقعوں پر آپ نے ایسا فرمایا ہو۔سیرت ابن ہشام میں حضرت حسان بن ثابت کے اشعار منقول ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین و بنو قریظہ دونوں شکست خوردہ ذہنیت کے سبب فحش گوئی اور سخت دل آزاری سے اپنے دل کا بخار نکالنے لگے۔حضرت حسان کے اشعار میں فضیحت ملحوظ ہے اور وہ امر واقع پر مبنی ہیں۔الفاظ حدیث ھاچھرہ کے معنی ہیں ان کی ہجو کا جواب دو۔یہ لفظ مُهَا جاہ سے ہے جو باب مفاعلہ ہے جیسے قاتل سے مُقائلة۔حضرت حسان کے اشعار ابن ہشام ل ( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة بنی قریظة، اسلام بعض بای هدل، جزء ۳ صفحه (۱۸۸)