صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 283
يح البخاری جلد ۸ ۲۸۳ ۶۴ - کتاب المغازی فَاقْتُلُوا انْفُسَكُمْ کے یہ معنی نہیں کہ اپنے آپ کو قتل کر د یہ خود کشی ہے جو کسی مذہب میں جائز نہیں۔البتہ اس کے معنی علاوہ اپنے متعلقین کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اپنے نفوس کو قتل کرو۔یعنی خواہشات ذنیہ کی قلب ماہیت کرو اور نیک جذبات میں انہیں تبدیل کرو تا قبول کئے جاؤ۔مذکورہ بالا آیت میں اُس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری کے وقت اور حضرت ہارون علیہ السلام کے منع کرنے کے باوجود گوسالہ پرستی شروع کر دی تھی۔جیسا کہ اور پر بیان کیا جاچکا ہے کہ تین ہزار آدمی کا قتل کیا جانا راویوں کی مبالغہ آمیزی معلوم ہوتی ہے۔قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیات سے ظاہر ہے کہ قوم کو تو بہ کرنے پر معافی دے دی گئی تھی اور صرف فتنہ انگیز سرغنوں کو سزا دی گئی تھی۔اس واقعہ کا ذکر سورۃ الاعراف (آیات ۱۴۹ تا ۱۵۵) میں ہے۔آیت ۱۵۳، ۱۵۴ میں بعض کی سزا اور بعض کی معافی کا ذکر وارد ہوا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر ، سورۃ البقرۃ آیت ۵۵، جزء اول صفحه ۴۵۱ تا ۴۵۷۔جب بنو نضیر اعلانیہ نقض میثاق مدینہ کر کے قلعہ بند ہو کر برسر پیکار ہو گئے اور آخر شکست خوردہ ذہنیت کے ساتھ جلا وطنی پر راضی ہوئے تو اس وقت بنو قریظہ سے میثاق مدینہ کے مطابق تجدید عہد ہوا اور ان کے حلیف بنو اوس ان کی طرف سے اس عہد کی پابندی کرانے کے ذمہ دار ٹھہرے تھے اور اس کی ذمہ داری طبعاً اُن کے سردار حضرت سعد بن معاذ پر عائد ہوتی تھی۔غزوہ خندق میں بنو قریظہ کی غداری کا شدید احساس ان کے حلفاء کو تھا جیسا کہ حضرت سعد بن معاذ کے فیصلے سے ظاہر ہے اور یہ ثالثی فیصلہ ان کی مقدس کتاب تورات کے احکام ہی کے مطابق تھا جسے انہیں بلا چون و چرا منظور کرنا پڑا۔(دیکھئے استثناء باب ۱۰:۲۰ تا ۱۵ گفتی باب ۳۱: ۷ تا ۱۲) اور بوقت تنفیذ مجرموں میں سے ایک ایک کر کے اپنی اپنی مقررہ قتل گاہ پر آتے اور سر کٹواتے چلے گئے۔ان میں سے ہر ایک تنہا لایا جاتا اور کیفر کردار کا مزا چکھتا۔اس طریق تنفیذ میں بھی جذبہ رحم کار فرما تھا۔حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ نے انہیں بار بار سمجھایا اور شرارت سے باز رکھنے کی پوری کوشش کی یہاں تک کہ ان کے ساتھ آخری موقع پر گفتگو میں سخت کلامی تک بھی نوبت پہنچی مگر ان کے حلفاء کی سب کوششیں بے سود ثابت ہوئیں اور بنو قریظہ اپنی غداری اور نقض میثاق مدینہ پر بضد تھے۔۔پہلے یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد نے بھی اپنے قبیلہ کو سمجھایا اور اس کے سامنے تین باتیں پیش کیں جن میں سے ایک یہ تھی : تُتَابِعُ هَذَا الرَّجُلَ وَنُصَدِّقُهُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ أَنَّهُ لَنَبِيٌّ مُرْسَلٌ وَ انَّهُ لَلَّذِئ تَجِدُونَهُ فِي كِتَابِكُمْ فَتَأْمَنُوْنَ عَلَى دِمَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَأَبْنَائِكُمْ وَنِسَائِكُمْ قَالُوا لَا نُفَارِقُ حُكْمَ التَّوْرَاةِ اَبَدًا وَلَا نَسْتَبْدِلُ بِهِ غَيْرَهُ۔۔۔یعنی ہم اس شخص کی بات مان لیں اور اسے سچا سمجھیں۔بخدا یہ بات تمہارے لئے کھل چکی ہے کہ وہ نبی اور رسول ہے اور وہ وہی ہے جس کا ذکر تم اپنی کتاب میں (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة الخندق، استشهاد سعد بن معاذ، جزء ۳ صفحه ۱۷۸) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه ۱۷۳) ( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة بني قريظة كعب بن أسد ينصح قومه، جزء۳ صفحه ۱۸۶)