صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 22
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۲ ۶۴ - کتاب المغازی مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُوا کردے۔ (یہ وہ وقت تھا) جب تیرا رب ملائکہ کو اللهَ وَرَسُولَهُ وَ مَنْ يُشَاقِقِ اللهَ بھی وہی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس مومنوں کو ثابت قدم بناؤ۔ میں کفار کے دلوں میں وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ) رعب ڈالوں گا۔ پس (اے مومنو!) تم اُن کی (الأنفال: ١٠-١٤) گردنوں پر حملے کرتے جاؤ اور ان کی پور پور پر ضربیں لگاتے جاؤ۔ یہ اس لئے ہو گا کہ (کافروں نے) اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے ( اسے سمجھ لینا چاہیے کہ) اللہ بڑی سخت سزا دینے والا ہے۔ ٣٩٥٢: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۳۹۵۲: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل إِسْرَائِيلُ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ (بن یونس) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مخارق شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ بن عبداللہ ) سے، مخارق نے طارق بن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت يَقُوْلُ شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ بْنِ ابن مسعودؓ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے مقداد الْأَسْوَدِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ صَاحِبَهُ من اسوڈ کی بات کا ایک ایسا منظر دیکھا کہ اگر مجھ کو أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ أَتَى النَّبِيَّ حاصل ہو جاتا تو وہ ان تمام نیکیوں سے مجھے عزیز تر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو ہوتا جو ثواب میں اس ( ایک منظر) کے برابر ہوں۔ الله عَلَى الْمُشْرِكِيْنَ فَقَالَ لَا تَقُولُ كَمَا ہوایوں کہ مقداد نبی صلی علیم کے پاس آئے جبکہ قَالَ قَوْمُ مُوسَى : اذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ آپ مشرکوں کے خلاف دعا کر رہے تھے اور کہنے لگے : ( یا رسول اللہ !) ہم اس طرح نہیں کہیں گے فَقَاتِلا (المائدة : ٢٥) وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ جس طرح موسیٰ کی قوم نے کہا تھا: جا تو اور تیرا يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ رب دونوں جاکر لڑو، نہیں بلکہ ہم تو آپؐ کے وَخَلْفَكَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی اور آگے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ وَسَرَّهُ بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔ میں نے نبی صلی علی ایم کو