صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 282
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۸۲ ۶۴ - کتاب المغازی ابن اسحاق کی روایت میں ذکر ہے کہ ان کی تعداد اند از آچھ صدیا زیادہ سے زیادہ آٹھ نو صد تھی۔امام ابن حجر نے بحوالہ ترمذی و نسائی اور ابن حبان روایت نقل کی ہے کہ لڑنے والوں کی تعداد جو قتل کئے گئے چار صد (فتح الباری جزءے صفحہ ۵۱۷) انہیں بنو نجار کے ایک مکان میں قید رکھا گیا اور پھر مدینہ کی منڈی میں گڑھے کھو دے گئے اور آنحضرت صلی اللہ تم بازار میں اس جگہ کے قریب بیٹھ گئے۔جہاں حضرت سعد کے فیصلہ کا نفاذ ہونے والا تھا تا مجرموں میں سے کسی کے حق میں نرمی کی صورت پیدا ہو تو اسے معافی دے دی جائے۔چنانچہ آپ کے ارشاد پر ط بعض سزا سے مستقلی کئے گئے۔سیرت ابن ہشام اور تاریخ طبری کی روایتوں سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔عربوں میں حلیف ہونا از روئے تقدس عہد اخوت حقیقی سے بھی بڑھ کر سمجھا جاتا تھا اور بیان کیا جا چکا ہے کہ بنو نضیر کی جلاوطنی کے بعد بنو قریظہ نے تجدید معاہدہ کیا تھا کہ وہ میثاق مدینہ کی پابندی کریں گے اور بیرونی دشمن کے ساتھ کسی سازش میں شریک نہیں ہوں گے۔(دیکھئے روایت نمبر ۲۰۲۸ مع تشریح) چنانچہ متعدد آیات میں بطور تنبیہ ان کے بعض گزشتہ نیک وبد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے اور ہر آیت کو لفظ راڈ سے شروع کر کے انہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں اور اچھا رویہ اختیار کریں تو وہ اس کا نیک بدلہ پائیں گے لیکن اگر انہوں نے بدعہدی کی تو اس کا انجام برا ہو گا۔انہی آیات میں سے ایک آیت یہ ہے: وَاذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَومِ إِنَّكُمْ ظَلَمُتُم انْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إلى باريكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ عِنْدَ بَارِيكُمْ - فَتَابَ عَلَيْكُمْ ، إنه هُوَ التَّوَابُ الرَّحِيمُ ) (البقرة : ۵۵) ترجمہ: اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر یقینا اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اس لئے تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف جھکو اور ہر شخص اپنے آپ کو قتل کر دے۔یہ بات تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے حق میں بہت اچھی ہے۔( جب تم نے ایسا کر لیا) تب اس نے تمہاری طرف فضل کے ساتھ پھر توجہ کی۔وہ یقینا اپنے بندوں کی طرف) بہت توجہ کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔تورات کی کتاب خروج سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کو یہ حکم ان کی بدعہدی کے وقت دیا گیا تھا کہ ہر بھائی اپنے بھائی کو، ہر دوست اپنے دوست کو اور ہر پڑوسی اپنے پڑوسی کو قتل کرے۔چنانچہ اس کتاب میں ہے کہ ایک دن میں تین ہزار آدمی مارے گئے۔(دیکھو خروج باب ۳۲: ۲۸،۲۷) (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة بني قريظة، تحكيم سعد في أمر بني قريظة، جزء ۳ صفحه ۱۹۱،۱۹۰) (ترمذی، کتاب السیر، باب ۲۹ ما جاء فى النزول على الحكم ) (صحیح لابن حبان، کتاب السیر، باب ذكر عدد القوم الذين قتلوا يوم قريظة) (السنن الكبرى للنسائی، کتاب السير ، باب اذا نزلوا على حكم رجل) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، كتاب المغازي، غزوة بني قريظة، جزء۳ صفحه ۸۷،۸۶) (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة بني قريظة، تحكيم سعد فى أمر بني قريظة، جزء ۳ صفحه ۱۹۰ تا ۱۹۴) (تاريخ الطبري، السنة الخامسة من الهجرة، غزوة بني قريظة، جزء ۲ صفحه ۵۸۹)