صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 281
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۸۱ ۶۴ - کتاب المغازی کہ اوس جو بنو قریظہ کے حلیف تھے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ خزرج کی سفارش پر اُن کے حلیف قینقاع کے حق میں نرمی برتی گئی تھی۔بنو قریظہ ہمارے حلیف ہیں ان سے بھی اسی طرح نرمی برتی جائے تو آپ نے ان کے سردار حضرت سعد کے سپر د معاملہ کر دیا۔ابن اسحاق نے معبد بن کعب سے روایت کی ہے کہ بنو قریظہ نے اپنے حلیف ابولبابہ کو بلایا۔ان سے مشورہ کیا کہ کیا محمد (صلی علیم) کے فیصلہ پر اپنے آپ کو سپرد کر دیا جائے تو انہوں نے ہاتھ سے حلق کی طرف اشارہ کیا یعنی قتل ہونا ہو تو اُن کے سپرد کر دو اور بجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت سعد کو ثالث بنانے کا مشورہ دیا۔بنو قریظہ کو یقین تھا کہ حضرت سعد کا فیصلہ ان کے حق میں نرم ہوگا۔قلعہ کے اندر جو مشورے ہو رہے تھے، اس کی اطلاع ساتھ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل رہی تھی۔اس لئے آپ نے اس سوء ظنی اور خدشات کی وجہ سے جو بنو قریظہ کو آپ کی نسبت تھے ، ان کے معاملہ میں دخل نہیں دیا اور فیصلہ حضرت سعد کے سپرد کر دیا۔سیرت ابن ہشام میں ہے کہ حضرت سعد پہلے اوس سے مخاطب ہوئے اور ان سے عہد لیا : عَلَيْكُمْ بِذَلِكَ عَهْدُ اللهِ وَ مِيْنَاقُهُ أَنَّ الْحُكْمَ فِيهِم لَمّا حَكَمْتُ : کیا تم اللہ سے پختہ اقرار کرتے ہو کہ فیصلہ وہی نافذ کیا جائے گا جو میں نافذ کروں؟ اوس نے اقرار کیا۔پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: وَعَلَى مَنْ هَا هُنَا یعنی جو ادھر ہیں انہیں بھی میرا فیصلہ منظور ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔حضرت سعد کے استفسار کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کی جائے گی اور اس کے حکم کے مطابق جو فیصلہ ہو گا وہ مبنی بر انصاف سمجھا اور نافذ کیا جائے گا۔ان حضرت ابولبا به حلیف قریظہ کو جب صورتِ حال کا علم ہوا تو انہیں شدید ندامت ہوئی کہ انہوں نے بنو قریظہ کو غلط مشورہ دیا تھا کیونکہ وہ بار بار دیکھ چکے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سلوک میں نہایت رحیم و کریم تھے۔بنو قینقاع سے نرمی برتی گئی، اسی طرح بنو نضیر سے بھی بیسیوں موقعوں پر آپ نے عفو سے کام لیا۔ان حالات میں آپ سے متعلق حسن ظن سے کام لینا چاہیے تھا اور اپنے مشورہ کو خیانت رسول پر محمول کیا اور شدت ندامت کی وجہ سے وہ مسجد میں تو بہ واستغفار کی غرض سے داخل ہو گئے اور ستون سے اپنے آپ کو باندھا اور عہد کیا کہ اس وقت تک اس سے نہیں نکلیں گے تاوقتیکہ ان کی توبہ قبول نہ ہو اور معافی نہ ملے۔چنانچہ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر ان کا بندھ کھولا اور معاف فرمایا۔کے حضرت سعد نے مطابق تورات فیصلہ کیا کہ لڑنے والوں کے سر قلم کئے جائیں اور باقی لوگ اسیر (جنگی قیدی) بنائے جائیں۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے یہ فیصلہ سن کر حضرت سعد سے فرمایا: لقد حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ - تم نے وہ فیصلہ کیا ہے جو اللہ کا فیصلہ ہے جیسا کہ ابھی بتایا جائے گا۔( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة بى قريظة، تحكيم سعد فى أمر بني قريظة، جزء۳ صفحه ۱۹۰،۱۸۹) ( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة بني قريظة، قصة أبي لبابة، جزء ۳ صفحه ۱۸۶ تا ۱۸۸) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول اللہ ﷺ الی بنی قریظة، جزء ۲ صفحہ ۷۱،۷۰)