صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 280 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 280

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۸۰ يَجْعَلُونَ ۶۴ - کتاب المغازی لفظ شیخ کے معنی ہر اس بات کے ہیں جو اللہ چاہے ، یہ اسم شَاءَ يَشَاءُ مَشِيئَةً سے مشتق ہے۔مشیت اور شے کا اشتقاق ایک ہی ہے۔اَرْضًا لَم تَطَقُوهَا سے مراد علاقہ خیبر وغیرہ ہے جو جنگ احزاب کا محرک و باعث بنا اور اس میں یہ پیشگوئی مضمر ہے کہ ان کا علاقہ بھی مسلمانوں کو ملے گا۔ان آیات کا مفہوم نفی و اثبات دونوں پہلوؤں سے مکمل ہے کہ نہ صرف احزاب ہی خائب و خاسر لوٹائے گئے بلکہ یہود کی شر انگیزی کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم ان کے وارث بنائے گئے۔کتنا بڑا احسان الہی ہے کہ دشمنوں کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں اور سارے عرب پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔وہ طوفانِ عظیم جس کی سورۃ البقرۃ کے دوسرے رکوع میں آؤ گصیبِ مِنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلَمْتُ وَ رَعْدٌ وَبَرْقٌ اصَابِعَهُمْ فِي أَذَانِهِمْ مِنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللهُ مُحِيطٌ بِالكَفِرِينَ) (البقرة: ۲۰) کیسے با عظمت و جبروت الفاظ سے خبر دی گئی تھی اور غزوہ احزاب میں نہایت شان و شوکت اور عظمت و جلال کے ساتھ پوری ہوئی اور جیسا کہ تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ اس سورۃ میں جس طرح کفار اور منافقین کو انذار کیا گیا تھا اسی طرح بنو اسرائیل کو بھی کھلے الفاظ میں تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ نقض میثاق کا بہت برا انجام دیکھیں گے۔یہ عظیم الشان پیشگوئی اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ ظہور میں آگئی اور جس طرح کہ فرمایا گیا تھا: وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةُ (البقرة: ٤٩) اسی طرح یہ حصہ پیشگوئی بھی پورا ہوا۔بنو اوس کی سفارش جو ان کے حلیف تھے بنو قریظہ کے کچھ کام نہیں آئی۔باب کی چوتھی روایت (نمبر ۴۱۲۰) کا تعلق بنو قریظہ اور بنو نضیر کے اموال کی تقسیم سے ہے۔یہ روایت حضرت انس کی ہے جو کتاب فرض الخمس، باب ۱۲ میں بھی اختصار کے ساتھ گذر چکی ہے۔پانچویں روایت (نمبر ۴۱۲۱) سے یہ امر ظاہر ہے کہ بنو قریظہ نے حضرت سعد کو اپنی خواہش سے ثالث بنایا تھا اور انہوں نے ان میں سے لڑنے والوں کو قتل اور باقیوں کو اسیر بنانے کا فیصلہ کیا۔چھٹی روایت (نمبر ۴۱۲۲) میں ہے کہ بنو قریظہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر رضامند ہوئے لیکن آپ نے ان کا معاملہ حضرت سعد کے سپرد کر دیا۔روایت نمبر ۴۱۲۱ حضرت ابوسعید خدری کی ہے۔الفاظ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ سے ظاہر ہے کہ قریظہ نے حضرت سعد کو ثالث مقرر کیا تھا۔روایت نمبر ۴۱۲۲ حضرت عائشہ کی ہے جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ بنو قریظہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر قلع کھولنے پر آمادگی کا اظہار کیا مگر کسی وجہ سے آپ نے خود فیصلہ نہیں فرمایا بلکہ فیصلہ حضرت سعد کے سپرد کر دیا جو اُن کے حلیف تھے۔ابن اسحاق نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "یا ( ان کی مثال) اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے اترتی ہے۔اس میں اندھیرے بھی ہیں اور کڑک بھی اور بجلی بھی۔وہ بجلی کے کڑکوں کی وجہ سے ، موت کے ڈر سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔اور اللہ کا فروں کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور ڈرو اس دن سے جب کوئی نفس کسی دوسرے نفس کے کچھ کام نہیں آئے گا اور نہ اس سے (اس کے حق میں) کوئی شفاعت قبول کی جائے گی۔“