صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 279
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۷۹ ۶۴ - کتاب المغازی جائے۔عبید اللہ کہتے تھے کہ لوگ ہتھیار باندھ کر چل پڑے اور سورج ڈوبے وہاں پہنچے اور بعض نے راستہ میں ہی نماز عصیر چلتے ہوئے پڑھ لی اور بعض نے وہاں پہنچ کر پڑھی اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تاکید کی ارشاد کی لفظی تعمیل میں کرنی چاہیے۔ہم پر کوئی گناہ نہیں جو نماز وقت پر نہیں پڑھی۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ نے کسی فریق پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔طبرانی نے مذکورہ بالا روایت حضرت کعب بن مالک سے موصولاً نقل کی ہے۔امام بیہقی نے اسی واقعہ سے متعلق حضرت عائشہ سے بھی ایک روایت بیان کی ہے۔کہ دونوں روایتیں امام بخاری کی روایت کے مطابق ہیں کہ جس روز آنحضرت صلی کم غزوہ خندق سے لوٹے ہیں، اسی روز آپ کو کشفا بنو قریظہ پر چڑھائی کا ارشاد ہوا تھا اور صحابہ سے تاکید فرما کر آپ خود اُن میں سے بعض کے ساتھ بنو قریظہ کی بستی میں پہلے پہنچ گئے۔عصر کی نماز وہاں جاکر پڑھی۔بعض روایتوں میں ظہر پڑھنے کا ذکر ہے۔جو درست نہیں اور نہ یہ درست ہے کہ غزوہ بنو قریظہ غزوہ احزاب سے کوئی علیحدہ جنگ تھی بلکہ یہ اس کا حصہ اور تمہ تھی۔عَزِيرَكَ مِنْ تُحَارِب (مُحَارِب یعنی جنگ کرنے والا) سے اشارہ بنو قریظہ کی طرف ہے کہ اس حربی فریق کے بارہ میں تمہارا کیا عذر ہے یا تم کس طرح معذور سمجھے جاؤ گے ؟ کہتے ہیں: عَذِيرَكَ مِن فُلَانٍ يَعْنِي مَنْ يُعْذِرُكَ بَلْ يَلُومُهُ وَلَا يَلُومُكَ كون مجھے معذور ٹھہرا سکتا ہے اور فلاں کو ملامت کرے گا اور تجھے ملامت نہ کرے گا۔سورۃ الحشر میں قلعہ بند ہو کر لڑنے والے یہودیوں کے بارہ میں پیشگوئی ہے کہ ان کا انجام بھی وہی ہو گا جو ان کے ساتھیوں کا ہوا۔(الحشر: ۳) بنو قریظہ کھلے الفاظ میں اپنا معاہدہ توڑ کر دشمن کے ساتھ مل گئے تھے۔ہے ایسی حالت میں انہیں بغیر سزا چھوڑ دینا خلاف مصلحت تھا۔یہ مراد ہے مذکورہ بالا الہامی فقرے عَذِيرَكَ مِنْ مُّحَارِبٍ کا۔سورۃ احزاب میں غزوہ خندق اور بنو قریظہ کا ذکر بطور احسان الہی ایک ہی جگہ پر کیا گیا ہے۔فرماتا ہے: وَرَدَ اللهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا وَكَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا وَ أَنْزَلَ الَّذِينَ ظاهرُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ مِنْ صَيَامِهِمْ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَ تَأْسِرُونَ فَرِيقًا وَأَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُم وَ دِيَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَأَرْضًا لَمْ تَطُوهَا وَكَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيران (الأحزاب: ۲۶ تا ۲۸) ان آیات میں یہ مضمون ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احزاب کو بے نیل و مرام کوٹا دیا اور مومنوں کو اُن سے لڑائی نہیں کرنی پڑی، اللہ ہی ان سے نپٹا، اللہ قومی ہے ، عزیز ہے اور اس نے ان لوگوں کو جنہوں نے ان کی مدد کی اور پیٹھ ٹھونکی، ان کے قلعوں سے نیچے اُتارا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور حالت یہ تھی کہ تم ان میں سے ایک فریق کو قتل اور دوسرے فریق کو قید کر رہے تھے اور اس نے تمہیں ان کی زمینوں، بستیوں اور مالوں کا وارث بنادیا اور ایسا ہی اس کے علاوہ ایک اور زمین کا بھی وارث بنائے گا جسے تم نے ابھی تک نہیں روندا اور اللہ ہر شئے پر قادر ہے۔☑ (المعجم الكبير للطبرانى، باب الكاف، ما أسند كعب بن مالك روايت ۱۶۰، جزء ۱۹ صفحه ۷۹، ۸۰) (دلائل النبوة للبيهقی، جماع ابواب مغازی رسول الله ﷺ، باب مرجع النبی ﷺ من الأحزاب ، جزء ۴ صفحه (۸) (صحیح مسلم، کتاب الجهاد و السير، باب المبادرة بالغزو وتقديم أهم الأمرين) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه ۱۷۳،۱۷۲) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۳)