صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 278 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 278

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۷۸ ۶۴ - کتاب المغازی عَنِ الشَّيْبَانِي عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ شیبانی سے، شیبانی نے عدی بن ثابت سے ، عدی الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ نے حضرت براء بن عازب سے روایت کی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِيْنَ قریظہ کے واقعہ میں حسان بن ثابت سے کہا: ان مشرکوں کی ہجو کرو، جبرائیل " تمہارے ساتھ ہیں۔فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ۔اطرافه ۶۱۵۳،۴۱۲۳،۳۲۱۳ رح : مَرْجَعُ النَّبِيَّ ﷺ مِنَ الْأَحْزَابِ وَمَخْرَجْهُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ: مَوَرَحْين نے بنو قریظہ کا واقعہ الگ غزوہ قرار دے کر اس کی تاریخ وقوع ذو القعدہ بیان کی ہے۔سابقہ باب کی شرح میں تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ جنگ احزاب ماہ شوال میں ہوئی۔محاصرہ کی زیادہ سے زیادہ مدت ایک ماہ تھی۔ذوالقعدہ (آشہر حرم) قابل احترام مہینوں میں شمار ہوتا تھا جن میں لڑائی جائز نہ تھی۔بعض مصنفین نے ابو سفیان کے جنگ بند کرنے کے اسباب میں سے یہ سبب بھی بیان کیا ہے کہ ماہِ شوال ختم ہو رہا تھا اور ذوالقعدہ شروع ہونے والا تھا۔عنوانِ باب کی نحوی ترکیب سے ظاہر ہے کہ واقعہ بنی قریظہ غزوہ احزاب کا ہی حصہ تھا کیونکہ بنو قریظہ معاہدہ توڑ کر کفارِ مکہ کے ساتھ شریک ہو گئے تھے اور اس امر کا انتظار کر رہے تھے کہ جس وقت حملہ آور مدینہ میں داخل ہوں اسی وقت وہ بھی حملہ کر دیں مگر انہیں اس کا موقع نہیں مل سکا۔اس باب میں آٹھ روایتیں ہیں۔پہلی تین روایتوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ غزوہ احزاب کے مورچوں سے جس دن آنحضرت صلی اللہ ہم مدینہ واپس آئے ، اسی دن آپ نے بغیر آرام کئے بنو قریظہ کی طرف کوچ کیا جس طرح سابقہ غزوات میں جبرائیلی تجلی کی راہنمائی آپ کے شامل حال تھی، اسی طرح غزوہ خندق میں بھی تھی۔کتب مغازی میں آنحضرت ملا لی ایم کے اس مکاشفہ کا ذکر ہے کہ آنحضرت علی تعلیم کے پاس حضرت جبریل آئے اور ارشادِ خداوندی سے آگاہ کیا۔ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے مدینہ میں آئے تو ظہر کے وقت جبرائیل نے آپ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بنو قریظہ کی طرف کوچ کیا جائے اور ہتھیار نہ کھولے جائیں۔امام ابن حجر نے بحوالہ طبرانی اور بہیقی صحیح سند سے عبید اللہ بن کعب کی یہ روایت نقل کی ہے کہ جب احزاب چلے گئے تو آپ مدینہ واپس آئے۔زرہ اُتاری، نہائے اور دھونی لینے کی چیزیں سلگائیں، اسی وقت جبرائیل ظاہر ہوئے۔ان کے الفاظ یہ ہیں : تَبَدِّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ عَذِيرَكَ مِنْ مُّحَارِبٍ فَوَثَبَ فَزِنًا فَعَزَمَ عَلَى النَّاسِ أَن لَّا يُصَلُّوا الْعَصْرَ حَتَّى يَأْتُوا بَنِي قُرَيْظَةَ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۱۰) ترجمہ : جبریل آپ پر ظاہر ہوئے اور کہا: لڑنے والے سے اللہ تجھے معذور سمجھے۔یہ الفاظ سنتے ہی آپ گبھرا کر اُٹھے اور لوگوں کو تاکید کی کہ عصر کی نماز بنو قریظہ میں پڑھی (تاريخ الخميس، في وقائع السنة الخامسة من الهجرة، غزوة بني قريظة ، جزء اول صفحه ۴۹۲ ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بني قريظة ، جزء ۳ صفحه ۱۸۴،۱۸۳)