صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 277
صحيح البخاری جلد ۸ *22 ۶۴ - کتاب المغازی وَأَخْرَجُوهُ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ جانتا ہے کہ مجھے تیری خاطر کسی سے بھی جہاد کرنا وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ اتنا پسند نہیں جتنا کہ ان لوگوں سے جنہوں نے كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْءٌ تیرے رسول (فیلم) کو جھٹلایا اور وطن سے نکالا، فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّى أُجَاهِدَهُمْ فِيْكَ وَإِنْ اے اللہ ! میں سمجھتا ہوں کہ تو نے ہمارے اور ان كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرُهَا کے درمیان لڑائی موقوف کر دی ہے اور اگر قریش وَاجْعَلْ مَوْتَتِي فِيْهَا فَانْفَجَرَتْ مِنْ سے ابھی کچھ لڑائی باقی ہو تو مجھے اس کے لئے زندہ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعُهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ رکھتا میں تیری خاطر ان سے جہاد کروں اور اگر تو نے لڑائی ختم کر دی ہے تو میرے زخموں کو کھول خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارِ إِلَّا الدَّمُ يَسِيْلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا کرینے دے اور اس میں میری موت ہو۔چنانچہ ان کے سینے کا زخم کھل گیا اور خون بہہ کر بنی غفار کے خیمہ کی طرف جو مسجد ہی میں تھا، آنے لگا اور وہ خوفزدہ ہوکر بول اُٹھے : یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے ہماری طرف آرہا ہے؟ کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت سعد کا زخم کھل گیا ہے اور خون بہہ رہا ہے۔وہ اس هَذَا الَّذِي يَأْتِيْنَا مِنْ قِبَلِكُمْ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ۔زخم سے فوت ہو گئے۔اللہ ان سے راضی ہو۔اطرافه: ۴۶۳، ۴۱۱۷،۳۹۰۱،۲۸۱۳۔٤١٢٣: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ :۴۱۲۳ حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ أَنَّهُ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے کہا: عدی سَمِعَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ (بن ثابت) نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ۔تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان سے فرمایا: مشرکوں کی ہجو کرو یا فرمایا: ان کی ہجو کا اطرافه: ۶۱۵۳،۴۱۲۴،۳۲۱۳ جواب دو اور جبرائیل تمہارے ساتھ ہے۔٤١٢٤ : وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ۴۱۲۴ اور ابراہیم بن طہمان نے (سلیمان)