صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 276 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 276

صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی ابْنُ الْعَرقَةِ {وَهُوَ حِبَّانُ بْنُ قَيْسِ مِنْ کو قریش کے ایک شخص کا تیر لگا جسے حبان بن بَنِي مَعِيْصٍ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤي عرقہ ہے کہتے تھے۔{ اور یہ حبان بن قیس ہے جو رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ فَضَرَبَ النَّبِيُّ بنو معي بن عامر بن لوی میں سے تھا۔} اس نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي انہیں (اکل) ہفت اندام کی رگ میں تیر مارا۔الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا نبي صلى اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک خیمہ لگایا کہ رَجَعَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آسانی سے ان کی عیادت کر سکیں۔جب رسول اللہ مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السّلَاحَ وَاغْتَسَلَ صلى اللہ علیہ وسلم خندق کی جنگ سے لوٹ کر آئے، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ آپ نے ہتھیار کھول دیئے اور غسل کیا، اتنے میں يَنْقُصُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ فَقَالَ قَدْ جبریل علیہ السلام آئے اور آپ اپنا سر گرد سے وَضَعْتَ السَّلَاحَ وَاللهِ مَا وَضَعْتُهُ صاف کر رہے تھے۔جبرائیل نے کہا: آپ نے ہتھیار کھول دیئے ہیں، اللہ کی قسم! میں نے تو نہیں کھولے ، ان کی طرف چلیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کدھر؟ تو انہوں نے بنو قریظہ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَتَاهُمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ کی طرف اشارہ کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلُوْا عَلَى حُكْمِهِ فَرَدَّ ان کے پاس گئے اور وہ فیصلہ پر رضامند ہو گئے۔الْحُكْمَ إِلَى سَعْدِ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ مَگر آپ نے حضرت سعد کی طرف فیصلہ لوٹایا۔فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَى حضرت سعد نے کہا: میں تو ان کے بارے میں یہ النِّسَاءُ وَالدُّرّيَّةُ وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ فیصلہ کرتا ہوں کہ لڑنے والے قتل کئے جائیں اور قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ عورتیں اور بچے قید کئے جائیں اور ان کے مال أَنَّ سَعْدًا قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ بانٹ دیئے جائیں۔ہشام نے کہا: میرے باپ نے لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے یہ فِيْكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ ) بھی بتایا کہ حضرت سعد نے کہا: اے اللہ ! تو خوب 1 یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق متن میں ہیں۔(فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۵۱۴) عرقہ ماں کا نام ہے جو سعید بن سعد بن سہم کی بیٹی تھی۔(فتح الباری جزء صفحہ ۵۱۶)