صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 276
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۷۶ ۶۴ - كتاب المغازی ابْنُ الْعَرِقَةِ { وَهُوَ حِبَّانُ بْنُ قَيْسٍ مِنْ کو قریش کے ایک شخص کا تیر لگا جسے حبان بن بَنِي مَعِيْدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيِّ } عرقہ کے کہتے تھے۔ { اور یہ حبان بن قیس ہے جو رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ فَضَرَبَ النَّبِيُّ بنو معيص بن عامر بن لؤی میں سے تھا۔ } اس نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي انہیں (الحل) ہفت اندام کی رگ میں تیر مارا۔ الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک خیمہ لگایا کہ رَجَعَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آسانی سے ان کی عیادت کر سکیں۔ جب رسول اللہ مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السَّلَاحَ وَاغْتَسَلَ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی جنگ سے لوٹ کر آئے، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ آپ نے ہتھیار کھول دیئے اور غسل کیا، اتنے میں يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْعُبَارِ فَقَالَ قَدْ جبریل علیہ السلام آئے اور آپ اپنا سر گرد سے وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ صاف کر رہے تھے۔ جبرائیل نے کہا: آپ نے اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ہتھیار کھول دیئے ہیں، اللہ کی قسم ! میں نے تو نہیں کھولے، ان کی طرف چلیں۔ نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَى بَنِي علیہ وسلم نے فرمایا: کدھر؟ تو انہوں نے بنو قریظہ قُرَيْظَةَ فَأَتَاهُمْ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلُوْا عَلَى حُكْمِهِ فَرَدَّ ان کے پاس گئے اور وہ فیصلہ پر رضامند ہو گئے۔ الْحُكْمَ إِلَى سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ مگر آپ نے حضرت سعد کی طرف فیصلہ لوٹایا۔ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَى حضرت سعد نے کہا: میں تو ان کے بارے میں یہ النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ فیصلہ کرتا ہوں کہ لڑنے والے قتل کئے جائیں اور قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ عورتیں اور بچے قید کئے جائیں اور ان کے مال أَنَّ سَعْدًا قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ بانٹ دیئے جائیں۔ ہشام نے کہا: میرے باپ نے لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے یہ فِيْكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ (ﷺ) بھی بتایا کہ حضرت سعد نے کہا: اے اللہ ! تو خوب ا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق متن میں ہیں۔ ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۵۱۴) عرقہ “ ماں کا نام ہے جو سعید بن سعد بن سہم کی بیٹی تھی۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۱۶) وو