صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 274 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 274

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۷۴ ۶۴ - کتاب المغازی ذَلِكَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله نہیں تھی کہ ہم وہیں جا کر پڑھیں۔ نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَلِّفْ وَاحِدًا مِّنْهُمْ۔ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے ان میں طرفه: ۹۴۶ سے کسی پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ ٤١٢٠ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ۴۱۲۰: (عبد الله ) بن ابی الاسود نے مجھ سے بیان حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ح وَحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ (امام بخاری نے کہا: ) اور حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ خلیفہ (بن خیاط) نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ سے سنا۔ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرتے تھے۔ انہوں نے کہا، کوئی صاحب نبی صل الالام النَّخَلَاتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيْرَ کیلئے کھجوروں کے کچھ درخت خاص کر دیتا تھا۔ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُوْنِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ جب آپ نے قریظہ اور نصیر فتح کئے تو ( آپ کو ان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي کی ضرورت نہ رہی اور ) میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ میں نبی صلی علیم کے پاس جاؤں اور آپ سے وہ كَانُوا أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَكَانَ النَّبِيُّ درخت جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ ہم کو دیئے تھے یا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ ان میں سے کچھ درخت واپس کرنے کیلئے کہوں اور أُمَّ أَيْمَنَ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ ي ا م نے یہ درخت حضرت ام ایمن کو دے التَّوْبَ فِي عُنُقِي تَقُوْلُ كَلَّا وَالَّذِي دیے تھے۔ یہ سن کر حضرت اُم ایمن آئیں اور میری لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يُعْطِيْكُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا گردن میں کپڑا ڈالا اور بولیں: ہرگز نہیں قسم ہے اس صد القديم أَوْ كَمَا قَالَتْ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! ( یہ درخت) تمہیں کبھی نہیں ملیں گے جبکہ آنحضرت صلی اللہ میم مجھے وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَكِ كَذَا وَتَقُوْلُ كَلَّا دے چکے ہیں یا کچھ ایسا ہی کہا اور نبی صلی اللہ ہم نے وَاللَّهِ حَتَّى أَعْطَاهَا حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ (حضرت ام ایمن سے) فرمایا: (واپس کر دو) تمہیں اتنے ہی اور دوں گا اور وہ کہتی تھیں: اللہ کی عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ كَمَا قَالَ۔ اطرافه: ۴۰۳۰،۳۱۲۸،۲۶۳۰ قسم ! ہرگز نہیں۔ آخر آپ نے ان کو۔ میرا خیال ہے کہ حضرت انس نے کہا۔ اس سے دس گنا دیئے یا کچھ ایسے ہی الفاظ تھے جو کہے۔