صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 274
صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی ذَلِكَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ نہیں تھی کہ ہم وہیں جا کر پڑھیں۔نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَتِفْ وَاحِدًا مِّنْهُمْ۔علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان میں سے کسی پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔طرفه: ۹۴۶ ٤١٢٠ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ۴۱۲۰ (عبد اللہ ) بن ابی الاسود نے مجھ سے بیان حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ ح وَحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔(امام بخاری نے کہا: ) اور حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ خلیفہ بن خیاط) نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ سے سنا۔وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرتے تھے۔انہوں نے کہا: کوئی صحابی نبی صلی الایم النَّخَلَاتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيْرَ کیلئے کھجوروں کے کچھ درخت خاص کر دیتا تھا۔وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُوْنِي أَنْ آنِيَ النَّبِيَّ جب آپ نے قریظہ اور نفسیر فتح کئے تو ( آپ کو ان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي کی ضرورت نہ رہی اور ) میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ میں نبی صلی للی نیم کے پاس جاؤں اور آپ سے وہ كَانُوا أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَكَانَ النَّبِيُّ درخت جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ ہم کو دیئے تھے یا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ ان میں سے کچھ درخت واپس کرنے کیلئے کہوں اور أُمَّ أَيْمَنَ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ في مال الکریم نے یہ درخت حضرت ام ایمن کو دے التَّوْبَ فِي عُنُقِي تَقُوْلُ كَلَّا وَالَّذِي دیئے تھے۔یہ سن کر حضرت ام ایمن آئیں اور میری لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يُعْطِيْكُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا گردن میں کپڑا ڈالا اور بولیں : ہرگز نہیں قتہم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! ( یہ درخت) تمہیں کبھی نہیں ملیں گے جبکہ آنحضرت صلی اللہ تم مجھے الله دے چکے ہیں یا کچھ ایسا ہی کہا اور نبی صلی للہ ہم نے أَوْ كَمَا قَالَتْ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَكِ كَذَا وَتَقُوْلُ كَلَّا وَاللهِ حَتَّى أَعْطَاهَا حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ ( حضرت ام ایمن سے) فرمایا: (واپس کردو) عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ كَمَا قَالَ۔اطرافه: ۴۰۳۰،۳۱۲۸،۲۶۳۰ تمہیں اتنے ہی اور دوں گا اور وہ کہتی تھیں: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں۔آخر آپ نے ان کو۔میرا خیال ہے کہ حضرت انس نے کہا۔اس سے دس گنا دیئے یا کچھ ایسے ہی الفاظ تھے جو کہے۔