صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 272 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 272

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۷۲ ۶۴ - کتاب المغازی سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہو گئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔اسی معجزہ کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے: وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَلى (الأنفال: ۱۸) یعنی جب تو نے اس مٹھی کو پھینکا، وہ تو نے نہیں پھینکا بلکہ خدا تعالیٰ نے پھینکا۔یعنی در پر دہ الہی طاقت کام کر گئی۔انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا۔اور ایسا ہی دوسرا معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شق القمر ہے ، اسی الہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا کہ کوئی دعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو الہی طاقت سے بھری ہوئی تھی، وقوع میں آگیا تھا۔اور اس قسم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی۔کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزارہا بھوکوں پیاسوں کا اُن سے شکم سیر کر دیا۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۵، ۶۶) بَاب ۳٠: مَرْجِعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَحْزَابِ وَمَخْرَجُهُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ وَمُحَاصَرَتُهُ إِيَّاهُمْ نبی صل الم کی جنگ احزاب سے واپسی اور بنو قریظہ کی طرف روانگی اور اُن کا محاصرہ کرنا ٤١١٧: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۴۱۱۷ عبد اللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرِ عَنْ هِشَامٍ که (عبد اللہ ) بن نمیر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ہشام بن عروہ) سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، قَالَتْ لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السّلَاحَ روایت کی۔کہتی تھیں : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَاغْتَسَلَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ جنگ خندق سے لوٹے اور ہتھیار اُتار دیئے اور