صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 271 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 271

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۷۱ ۶۴ - کتاب المغازی الْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَيْتُهُمْ هَادِينَ حَمِدت الله " ترجمہ: میں وقتاً فوقتاً سلع پہاڑ پر آکر مدینہ کے گھروں پر نگاہ ڈالتا اور انہیں سکون کی حالت میں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا۔رض قبا کے قرب وجوار میں جہاں بنو قریظہ کی آبادی تھی اور جہاں سے دشمن کے داخل ہونے کا اندیشہ تھا، آنحضرت سی کی ہم نے حضرت سلمہ بن اسلم اور حضرت زید بن حارثہ کے زیر قیادت محافظین کے دستے متعین فرما دیئے تھے۔اور گزر گاہوں میں بھی تیر انداز متعین تھے۔حفاظت کی یہ راہنمائی احتیاط و تدبیر ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق تھی۔فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (آل عمران: ۲۰۱) ترجمہ : مومنو! ثبات اور استقلال سے کام لو اور دوسروں کو ثابت قدم رکھو اور ہر رخنہ کی حفاظت کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔تقویٰ کے معنی ہیں انتہائی احتیاط سے کام لینا۔عجب نہیں کہ وحی الہی کے اسی جامع و مانع ارشاد سے حفاظت خندق کی تجویز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن مبارک میں آئی ہو۔سورۃ آل عمران میں غزوہ احد کا ذکر ہے۔اس کے آخری رکوع میں اہل کتاب اور مشرکین کی گندہ دہنی واشتعال انگیزی اور ملک کے طول و عرض میں تگ و دو کرنے کا ذکر ہے۔اس تعلق میں مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور جب خطرے نے شدید صورت اختیار کر لی تو آپ نے مذکورہ بالا ارشاد باری تعالیٰ کی جن جن طریقوں سے تعمیل فرمائی اور صبر و مصابرت کا جو حیرت انگیز نمونہ دکھایا، اس کی تفصیل جنگ احزاب کے واقعات سے ظاہر ہے۔(ز) روایت نمبر ۴۱۰۱، ۴۱۰۲ میں حضرت جابر بن عبد اللہ کی دعوت کا ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور دعا سے ایک صاع سے جو کی روٹیوں اور سالن میں جو ایک بکری کے گوشت سے تیار کیا گیا تھا، خارق عادت برکت دی گئی حتی کہ ایک ہزار بھو کے مجاہدین نے سیر ہو کر کھایا اور کھانا پھر بھی بیچ رہا۔اس معجزہ سے متعلق سیرت خاتم النبيين على الر کی مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے میں مفصل بیان ہے۔(دیکھئے صفحہ ۵۷۸ تا ۵۸۳) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی آپ کے اس معجزہ کا ذکر فرمایا ہے۔آپ لکھتے ہیں: اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سید و مولیٰ سید الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اُس کا اثر پڑا کہ کوئی ان میں (المغازي للواقدي، غزوة الخندق، جزء ۲ صفحہ ۴۶۰) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۳، ۶۴) ایک صاع تقریبا سوا دو کلو گرام کے برابر تھا۔(لغات الحدیث - صاع)