صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 270
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۷۰ ۶۴ - کتاب المغازی فَإِنْ أَحْلِفْ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى (وَسَافٍ وَنَائِلَة وَهُبُل) لَقَدْ سِرْتُ إِلَيْكَ فِي جَمْعِنَا وَإِنَّا نُرِيدُ أَلَّا نَعُوْدَ إِلَيْكَ اَبَدًا حَتَّى نَسْتَأْصِلَكُمْ فَرَأَيْتُكَ قَدْ كَرِهْتَ لِقَاءَنَا وَجَعَلْتَ مَضَابِقَ وَخَنَادِقَ فَلَيْتَ شِعْرِئ مَنْ عَلَّمَكَ هَذَا فَإِنْ نَرْجِعَ عَنْكُمْ فَلَكُمْ مِنَّا يَوْمُ كَيَوْمٍ أُحْدٍ تَنْصُرُ فِيْهِ النِّسَاءَ اس خط کے جواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا: مِنْ مُحَمَّدٍ رَّسُولِ اللهِ إِلَى أَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ أَتَانِي كِتَابُكَ وَقَدِيمًا غَرَّكَ بِاللَّهِ الْغُرُورُ وَآمَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ سِرْتَ إِلَيْنَا فِي جَمْعِكُمْ وَأَنَّكَ لَا تُرِيدُ أَن تَعُوْدَ حَتَّى تَسْتَأْصِلَنَا فَذَلِكَ أَمْرُ اللهِ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ وَيَجْعَلُ لَنَا الْعَاقِبَةَ حَتَّى لَا تُذْكَرُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَأَمَّا قَوْلُكَ مَنْ عَلَّمَكَ الَّذِي صَنَعْنَا مِنَ الْخَنْدَقِ فَإِنَّ الله تَعَالَى أَلْهَمَى ذَلِكَ لِمَا اَرَادَ مِنْ غَيْظِكَ بِهِ وَغَيْظِ أَصْحَابِكَ وَلَيَأْتِيَنَ عَلَيْكَ يَوْمُ اكْسِرُ فِيهِ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَإِسَافَ وَنَائِلَهُ وَهُبَلَ حَتَّى أَذْكُرَكَ ذَلِكَ۔اس خط کے مضمون اور مغازی کی روایات میں اختلاف ایسا اختلاف نہیں کہ ان میں موافقت کی صورت نہ ہو۔بعض وقت صحابہ کر اٹم کے مشورے وحی الہی کے مطابق ہوتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی مشورہ پر عمل وحی جلی یا خفی کی راہنمائی میں ہوتا تھا، روح القدس کی رفاقت آپ سے ایک لمحہ بھی الگ نہیں ہوتی تھی۔تفصیل کیلئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۷ تا ۱۱۶۔کتب مغازی کی روایات میں یہ مذکور ہے کہ خندق اور ایسے مقامات پر جہاں خطرے کا احتمال تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظت کا پختہ انتظام فرما دیا تھا۔وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى خَنْدَقِهِمْ يَتَنَاوَبُوْنَ مَعَهُمْ بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ فَرَسًا وَالْفُرْسَانُ يَطُوفُوْنَ عَلَى الْخَنْدَقِ مَا بَيْنَ طَر فيه " ترجمہ: مسلمان خندق کا باری باری پہرہ دیتے۔ان کے ساتھ تیس کے قریب سوار ہوتے جو خندق کے دونوں پہلوؤں میں چکر لگاتے جو حرہ شرقیہ اور حزہ غربیہ سے ملحق تھے جہاں دشمن خیمہ زن تھا۔صحابہ کرائم دا من سلع میں مقیم تھے۔نبی اکرم صلیالی نام کی قرار گاہ جبل سلع کے اس مقام پر تھی جہاں آج کل مسجد فتح ہے۔ڈباب مقام پر بھی آپ کے لیے خیمہ لگائے جانے کا ذکر ملتا ہے اور لکھا ہے کہ باقی سپہ سالاروں حضرت سلمان، حضرت ابو بکر، حضرت عثمان اور حضرت ابوذر کی قرار گاہیں بھی آج کل مساجد کی صورت میں محفوظ ہیں۔ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ایسے موقع پر تھا جہاں سے لشکر اور مدینہ کی اطراف کی نگرانی بآسانی کی جاسکتی تھی۔مغازی واقدی ہی میں حضرت ابو بکر کا یہ قول نقل کیا گیا ہے: وَلَقَدْ كُنْتُ أُوفِي عَلَى سَلْعِ فَأَنظُرُ إِلَى بُيُوتِ إمتاع الأسماع للمقريزي، غزوة الخندق، كتاب أبي سفيان إلى رسول الله ، جزء اول صفحہ ۲۴۲) ( مجموعة الوثائق السياسية، القسم الثاني، كتاب أبي سفيان اليه وقت الخندق، جزء اول صفحہ ۷۳، ۷۴) (المغازي للواقدي، غزوة الخندق، جزء ۲ صفحه ۴۵۷) (وفاء الوفاء، الباب الخامس في مصلى النبي ﷺ ، الفصل الثالث في بقية المساجد ، مسجد الفتح والمساجد التي حول مسجد الفتح، جزء ۳ صفحه ۴۳،۳۹) (عہد نبوی صلی علیم کے غزوات و سرایا، غزوہ خندق، صفحه ۱۵۴،۱۵۳)