صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 269
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۶۹ ۶۴ - کتاب المغازی کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا: تو پھر مجھ سے مقابلہ کر لو۔عمرو نے کہا: میرے بھتیجے ! بخدا میں نہیں چاہتا کہ تمہیں قتل کروں۔حضرت علی نے کہا: میں تو چاہتا ہوں کہ میں تمہیں قتل کروں۔جس پر وہ نہایت غیظ و غضب میں آکر گھوڑے سے کود پڑا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔اس سے مستغنی ہو کر حضرت علی پر حملہ کیا، تب مقابلہ شروع ہو گیا۔اس کا انجام وہی ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔اس تعلق میں سیرت خاتم النبيين ما الوم کے بھی دیکھئے۔کتب تاریخ میں یہ واقعہ زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔لیکن نہ صحیح بخاری میں نہ کتب مغازی میں اس واقعہ کی وہ تفاصیل مذکور ہیں جو کتب تاریخ میں نقل کی گئی ہیں۔(و) کتب مغازی میں ہے کہ خندق کی کھدائی سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سلمان فارسی نے مشورہ دیا تھا۔امام ابن حجر نے اس بارہ میں ابو معشر کا ایک حوالہ نقل کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: قَالَ سَلْمَانُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا كُنَّا بِفَارِسٍ إِذَا حُوْصِرْنَا خَنْدَقْنَا عَلَيْنَا فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الخُنْدَقِ حَوْلَ الْمَدِينَةِ وَعَمَلَ فِيْهِ بِنَفْسِهِ تَرْغِيْبًا لِلْمُسْلِمِينَ فَسَارَعُوا إِلَى عَمَلِهِ حَتَّى فَرَغُوْا مِنْهُ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَحَاصَرُوهُمْ (فتح الباری جزءے صفحہ ۴۹۱) یعنی حضرت سلمان فارسی نے کہا کہ اگر فارس میں ہمارا محاصرہ ہوتا تو ہم اپنے ارد گرد خندق کھود لیتے تھے۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ارد گرد خندق کھودنے کا حکم دیا اور مسلمانوں کو ترغیب دینے کے لئے خود بھی اس میں کام کیا۔مسلمانوں نے جلدی تعمیل محکم کی۔ادھر صحابہ کھدائی سے فارغ ہوئے، اُدھر مشرک آپہنچے اور انہوں نے انہیں محصور کر لیا۔اس بیان میں مؤرخین نے مصنفین مغازی کا تتبع کیا ہے لیکن ان کی روایات میں حضرت سلمان فارسی کے اس مشورہ کا ذکر نہیں۔سیرت ابن ہشام کی روایات میں بھی اس کا ذکر نہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ اجتماعی اہم کاموں میں صحابہ کرام سے مشورہ لیا کرتے تھے اور بعید نہیں کہ حضرت سلمان فارسی نے ایسا مشورہ دیا ہو کیونکہ ایران میں خندق کھودنے کا دستور تھا۔عربوں میں بذریعہ خندق محفوظ ہو کر جنگ کرنے کا طریق نہیں تھا۔وہ کھلے میدان یا شب خون کی لڑائی کے خوگر تھے۔علامہ مقریزی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اپنی کتاب میں جمع کئے ہیں۔چنانچہ ایک خط میں ذکر ہے کہ ابوسفیان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو طعنہ دیا کہ خندق کے ذریعہ محفوظ ہو کر لڑنا کونسی بہادری ہے۔خندق کے ذریعہ اپنے آپ کو محفوظ کرنا آپ نے کس سے سیکھا ؟ جواب میں آپ نے لکھا کہ وحی الہی نے آپ کی اس بارہ میں راہنمائی کی ہے۔ابو سفیان کے خط کے الفاظ یہ ہیں: بِاسْمِكَ اللهُم (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الخندق، جزء۳ صفحه (۱۷۶) (سیرت خاتم النبيين عل الله یا مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، جنگ احزاب، صفحہ ۵۸۶ تا ۵۸۹) تاريخ الخميس، غزوة الخندق، مبارزة على لعمرو بن عبدود، جزء اول صفحہ ۴۸۸،۴۸۶) (السيرة الحلبية، ذكر مغازيه ، غزوة الخندق، جزء ۲ صفحه ۴۲۶ تا ۴۳۱) (سیرت النبی صلی ا یہ علامہ شبلی نعمانی، غزوۂ احزاب، جلد اوّل صفحه ۲۴۵،۲۴۴)