صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 268
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۶۸ ۶۴ - کتاب المغازی (د) روایت نمبر ۴۱۱۳ میں غایت درجہ اختصار ہے۔یہی روایت کتاب الجہاد باب ۴۱،۴۰ میں بھی مذکور ہے۔اس بارے میں مفصل شرح وہاں دیکھئے۔کتب مغازی میں حضرت حذیفہ بن یمان کے بھیجے جانے اور میدانِ جنگ کی خبر لانے کا ذکر ہے۔!۔د مفصل بیان (۵) روایت نمبر ۴۱۱۱، ۴۱۱۲ میں نماز عصر بر وقت نہ پڑھ سکنے کا ذکر ہے۔کتب مغازی میں یہ واقعہ کیا گیا ہے کہ خندق میں ایک تنگ جگہ پاکر عکرمہ بن ابی جہل، نوفل بن عبد اللہ ، ضرار بن خطاب، ہبیرہ بن ابی وہب اور عمرو بن عبد ڈڈا سے عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔عمرو ایک مشہور شمشیر زن تھا۔توے سال کی عمر میں بھی قوی جسم اور عمدہ شاہسوار۔اس نے یہ رجزیہ شعر پڑھتے ہوئے مقابلہ کے لئے بلایا: وَلَقَد بَحِحْتُ مِنَ النداء لِجَمْعِهِمْ هَلْ مِنْ مُبَارِز کو پر کارتے پکارتے میرا گلا بیٹھ گیا ہے۔کیا کوئی میدان میں نکل کر معت ابلہ کرنے والا ہے حضرت علی بن ابی طالب نے کہا: یارسول اللہ ! میں اس کا مقابلہ کروں گا۔آپ نے انہیں اپنی تلوار دی، دستار باندھی اور دعا کی کہ اے اللہ ! علی کی مدد فرما۔باہمی تعارف کے بعد ایک نے دوسرے پر حملہ کیا جس سے غبار بلند ہوا اور دونوں اس میں غائب ہو گئے۔اتنے میں حضرت علی کا نعرہ تکبیر بلند ہوا اور عمرو زمین پر چت پڑا تھا۔اس کے ساتھی پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔سواروں نے ان کا تعاقب کیا۔حضرت زبیر بن عوام نے نوفل پر حملہ کر کے اسے دو ٹکڑے کر دیا۔باقی بچ نکلے اور دوسرے دن صبح کو لڑائی کی دھمکی دیتے گئے اور رات بھر تیاری ہوتی رہی۔مدینہ پر مختلف اطراف سے حملہ کرنے کے لئے دستے متعین کئے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کی غرض سے خالد بن ولید کی قیادت میں ایک نہایت مضبوط دستہ مخصوص ہوا اور صبح سے گہری شام تک مختلف جگہوں میں جنگ ہوتی رہی، صحابہ کر اہم سارا دن ان کے مقابلہ میں مشغول رہے اور اس طرح انہیں نماز ظہر ، عصر، مغرب اور عشاء پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔رات کو صحابہ کرام کوٹے اور نمازیں جمع کیں۔دوصد صحابہ حضرت اُسید بن حضیر کی قیادت میں خندق کی حفاظت کے لئے مقرر کئے گئے۔ابن سعد کی روایت کے مطابق یہ وہ موقع تھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار پر ان الفاظ میں بددعا کی: ملا اللَّهُ أَجْوَا فَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا۔یعنی اللہ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔عمرو بن عبدود سے مقابلے کا واقعہ سیرت ابن ہشام میں قدرے تفصیل سے بیان ہوا ہے کہ حضرت علی نے اس سے کہا کہ تم عہد کر چکے ہو کہ قریش کا کوئی شخص تم سے دو باتوں کا مطالبہ کرے گا تو ایک بات تم ضرور قبول کر لو گے۔سو میں پہلے تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔اس نے کہا: مجھے اس دین ( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة الخندق، جزء۳ صفحه ۱۸۳،۱۸۲) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۶،۶۵) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۴، ۶۵)