صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 267 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 267

حيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی وہ صلح نامہ انہیں دیا اور انہوں نے اس پر قلم پھیر دی۔۔یہی واقعہ اختصار سے طبقات ابن سعد میں بھی مروی ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خیال اس وقت آیا جب محاصرہ کو پندرہ بیس دن گزر گئے اور لوگوں میں بے چینی پیدا ہونے لگی۔ممکن ہے کہ اس تجویز میں بھی حضرت نعیم بن مسعودؓ ہی کا دخل ہو۔کنانہ بن ربیع یہودی سردار نے غطفان کو اس قسم کا لالچ دے کر اپنے ساتھ جنگ میں شریک کیا تھا کہ انہیں خیبر کے باغات کی نصف پیداوار دی جائے گی۔امام ابن حجر نے موسیٰ بن عقبہ کے حوالے سے لکھا ہے: خَرَجَ حُيَيٍّ بَنْ أَخْطَبَ بَعْدَ قَتْلِ بَنِي النَّفِيرِ إِلَى مَكَةَ يُحَرِّضُ قُرَيْشًا عَلَى حَرْبٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ كِنَانَةُ ابْنُ الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي الْقَيْقِ يَسْعَى فِي بَنِي غَطَفَانَ وَيَحْضُهُمْ عَلَى قِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ لَهُمْ يَصْفُ ثَمَرٍ خَيْبَرَ۔فَأَجَابَهُ مُبَيَّنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بنِ بَدْرٍ الفَزَارِيُّ إِلَى ذَلِكَ (فتح الباری جزءے صفحہ ۴۹۱) حیی بن اخطب بنو نضیر کے قتل کے بعد مکہ گیا، وہ قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے لئے اکساتا تھا اور کنانہ بن ربیع غطفان کے قبائل میں گیا، وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لئے اُبھارتا تھا اور کہتا تھا کہ اگر انہوں نے اس کی بات مان کر لڑائی پر آمادگی ظاہر کی تو انہیں خیبر کے باغات کی نصف پیداوار دی جائے گی۔چنانچہ عیینہ بن حصن نے یہ بات مان لی۔دشمن کا یہی وہ وار تھا جو غطفان کو اُن سے توڑنے کے لئے اُن پر لوٹایا گیا پیشتر اس کے کہ وہ کارگر ہو تا۔غطفان کا یہود کی طرف سے نصف پیداوار کی پیشکش چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک تہائی پیداوار قبول کر لینا دلیل ہے اس امر کی کہ انہیں آپ کے وعدے کے پورا ہونے کا پورا یقین تھا نسبت یہودیوں کے وعدے کے۔یہ امر قابل غور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک تہائی پیداوار لینا قبول کر لی۔الْحَرْبُ خُدْعَةٌ کا یہی مفہوم ہے کہ دشمن کے وار سے بیچ کر وہ وار اس پر لوٹا دیا جائے اور قرآن مجید کی آیت فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ( البقرۃ: ۱۹۵) کا بھی یہی مفہوم ہے مؤرخین اسلام نے کتب مغازی کی مذکورہ بالا دونوں روایتوں کا ذکر کیا ہے۔سنہ مگر صحیح بخاری میں یہ روایتیں نظر انداز کی گئی ہیں۔( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة الخندقی، جزء ۳ صفحه ۱۷۵،۱۷۴) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله له الخدر ق، جزء ۲ صفحه (۶۹) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر ویسی ہی زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر کی ہو۔اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ یقیناً متقیوں کے ساتھ ہے۔" (سیرت خاتم النبيين على الام مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، جنگ احد، صفحه ۵۹۱، ۵۹۲) (سیرت النبی صلی ال کلام علامہ شبلی نعمانی، غزوہ احزاب ، جلد اوّل صفحه ۲۴۳،۲۴۵-۲۴۶)