صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 267
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۶۷ ۶۴ - كتاب المغازی وہ صلح نامہ انہیں دیا اور انہوں نے اس پر قلم پھیر دی۔ 1۔ یہی واقعہ اختصار سے طبقات ابن سعد میں بھی مروی ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خیال اس وقت آیا جب محاصرہ کو پندرہ بیس دن گزر گئے اور لوگوں میں بے چینی پیدا ہونے لگی کے ممکن ہے کہ اس تجویز میں بھی حضرت نعیم بن مسعودؓ ہی کا دخل ہو۔ کنانہ بن ربیع یہودی سردار نے غطفان کو اس قسم کا لالچ دے کر اپنے ساتھ جنگ میں شریک کیا تھا کہ انہیں خیبر کے باغات کی نصف پیداوار دی جائے گی۔ امام ابن حجر نے موسیٰ بن عقبہ کے حوالے سے لکھا ہے : خَرَجَ حُيَيْ بْنُ أَخْطَبَ بَعْدَ قَتْلِ بَنِي النَّصِيرِ إِلَى مَكَّةَ يُحَرِّضُ قُرَيْشًا عَلَى حَرْبٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ كِنَانَةُ ابْنُ الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي الْحُقَيقِ يَسْعَى فِي بَنِي غَطَفَانَ وَيَحْضُهُمْ عَلَى قِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ لَهُمْ نِصْفَ ثَمَرٍ خَيْبَرَ۔ فَأَجَابَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرِ الْفَزَارِيُّ إِلَى ذَلِكَ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۹۱) حیی بن اخطب بنو نضیر کے قتل کے بعد مکہ گیا، وہ قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے لئے اکساتا تھا اور کنانہ بن ربیع غطفان کے قبائل میں گیا، وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لئے اُبھارتا تھا اور کہتا تھا کہ اگر انہوں نے اس کی بات مان کر لڑائی پر آمادگی ظاہر کی تو انہیں خیبر کے باغات کی نصف پیداوار دی جائے گی۔ چنانچہ عیینہ بن حصن نے یہ بات مان لی۔ دشمن کا یہی وہ وار تھا جو غطفان کو اُن سے توڑنے کے لئے اُن پر لوٹایا گیا پیشتر اس کے کہ وہ کارگر ہوتا۔ غطفان کا یہود کی طرف سے نصف پیداوار کی پیشکش چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک تہائی پیداوار قبول کر لینا دلیل ہے اس امر کی کہ انہیں آپ کے وعدے کے پورا ہونے کا پورا یقین تھا بنسبت یہودیوں کے وعدے کے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک تہائی پیداوار لینا قبول کر لی۔ الْحَرْبُ خُدُعَةٌ کا یہی مفہوم ہے کہ دشمن کے وار سے بیچ کر وہ وار اس پر لوٹا دیا جائے اور قرآن مجید کی آیت فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ( البقرة البقرۃ:۱۹۵) : ۱۹۵) کا بھی یہی مفہوم ہے۔ مورخین اسلام نے کتب مغازی کی مذکورہ بالا دونوں روایتوں کا ذکر کیا ہے۔ روایتیں نظر انداز کی گئی ہیں۔ ہے۔ مگر صحیح بخاری میں یہ ا (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه ۱۷۴، ۱۷۵) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه (۶۹) ترجمه حضرت خليفة بت خليفة المسیح الرابع: «پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر ویسی ہی زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر کی ہو۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ یقیناً متقیوں کے ساتھ ہے۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی الله علم مصنفہ الله بین صلی القیوم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، جنگ اُحد ، صفحہ ۵۹۱، ۵۹۲) (سیرت النبی صلی الم علامہ شبلی نعمانی، غزوہ احزاب ، جلد اول صفحه ۲۴۳٬۲۴۵-۲۴۶)