صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 266
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۶۶ ۶۴ - کتاب المغازی ایک دوسرے سے غیر مطمئن کر دیا۔قریظہ نے قریش سے ضمانت طلب کی اور کہا کہ ہم میدانِ جنگ میں اسی وقت نکلیں گے اور لڑیں گے جب ہمیں اطمینان ہو جائے گا کہ تم ہمیں تنہا چھوڑ کر چلے نہیں جاؤ گے۔قریش نے ضمانت دینے سے انکار کیا اور وہ یہود سے بدظن ہو گئے۔یہود نے لڑائی میں شریک ہونے سے اپنی معذوری کا اظہار کر دیا جیسا کہ ابھی ذکر کیا گیا ہے۔اس روایت میں یہ ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نعیم سے وہ باتیں کرنے کے لئے فرمایا ہو جو انہوں نے قریظہ اور قریش سے کیں۔طبقات ابن سعد کی روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت نعیم بن مسعودؓ کو خود خیال پیدا ہوا کہ چونکہ حملہ آوروں سے ان کے تعلقات خوش گوار ہیں اور انہیں ان کے مسلمان ہونے کا علم نہیں، اس لئے وہ ایک دوسرے سے بدظن کئے جاسکتے ہیں۔اس تعلق میں جو تدبیر اُن کو سوجھی وہ سیدھی سادی تدبیر ہے۔انہوں نے بنو قریظہ کو بھی نیک مشورہ دیا جو اُن کے لئے بھی مفید تھا اور دوسرے فریق کو بھی۔مشورہ دینا دلانا جھوٹ نہیں کہلا تا، عمدہ تدبیر اور حسن سیاست کہلاتا ہے۔جو شخص ان کے مشورہ کو جھوٹ یا فریب پر محمول کرتا ہے، اس کا اپنا قصور فہم ہے۔حضرت نعیم نے جو بات قریش سے کہی وہ بھی ایک مشورہ ہی تھا کہ اگر یہود اُن کی نسبت متر ذد ہوں اور یر غمال طلب کریں تو نہ دیا جائے۔کتب مغازی میں یہ ذکر بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل غطفان کے سرداران عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر اور حارث بن عوف مری کو کہلا بھیجا کہ اگر وہ چلے جائیں تو انہیں مدینہ کے پھلوں کی ایک تہائی پیداوار دی جائے گی جو انہوں نے منظور کرلی اور اس بارے میں ایک تحریر بھی لکھی گئی لیکن آخری دستخط کرنے سے پہلے حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ سردارانِ اوس و خزرج کا مشورہ ضروری تھا کیونکہ باغات ان کے تھے اور یہ رائے ان کی جان ومال کی حفاظت کی غرض سے تھی۔دونوں سرداران نے عرض کیا کہ اگر اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا ہو تو بسر و چشم اور اگر آپ ہم سے مشورہ چاہتے ہیں تو ہماری رائے نہیں کہ ہم کوئی ایسا معاہدہ کریں جس سے ہماری کمزوری ظاہر ہو، ہم آخر تک ان کا مقابلہ کریں گے۔آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نہیں بلکہ میں نے دیکھا کہ تمام عرب نے ایک کمان سے تم پر تیر چلایا ہے اور کتوں کی طرح تمہیں کھانے کی تاک میں ہیں۔میں نے چاہا کہ کسی تدبیر سے ان کی طاقت توڑ دوں۔حضرت سعد بن معاذ نے کہا: یارسول اللہ ! یہ لوگ اور ہم مشرک تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے۔نہ ہمیں اللہ کی پہچان تھی اور نہ اس کی عبادت کا خیال۔اس زمانہ میں تو سوائے تجارت یا مہمان نوازی کے یہ لوگ ہمارے پھلوں کی تمنا نہیں کر سکے۔اور اب جب اللہ نے ہمیں اسلام کے طفیل عزت دی اور آپ کے ذریعہ عزت بخشی تو کیا ہم اپنے اموال انہیں دے دیں گے! وَاللهِ لَا نُعْطِيهِمْ إِلَّا السَّيْف حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَنا وَبَيْنَهُم - اللہ کی قسم! ہم انہیں تلوار کے سوا کچھ نہیں دیں گے (ہم ان سے جنگ کریں گے) تا وقتیکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے۔آپ نے حضرت سعد کا جواب سن کر