صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 265
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۶۵ ۶۴ - کتاب المغازی الترمة ایک ہی ایسے شخص ہو (جس کے مسلمان ہونے کا لوگوں کو علم نہیں) ایسی تدبیر کرو جس سے کفار بے دل ہو کر چلے جائیں۔لڑائی داؤ پیچ ہی ہوتی ہے۔حضرت نعیم بن مسعودؓ بنو قریظہ کے ندیم تھے وہ ان کے پاس گئے باتیں ہوئیں۔لڑائی کا تذکرہ ہوا تو حضرت نعیم ان سے کہنے لگے : تمہیں علم ہی ہے کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں، اگر قریش مکہ وغیرہ یہاں سے چلے گئے تو تم اکیلے رہ جاؤ گے۔تمہاری بود و باش، بال بچے اور مال و منال سب مدینہ میں ہیں۔تمہیں کیا ضرورت کہ بغیر یقینی صورت معلوم کئے قریش و غطفان کی خاطر اپنے لئے خطرہ مول لو۔میرا مشورہ ہے کہ تم ان سے بطور یر غمال ان کے بعض سردار اپنے پاس رکھو جو اس بات کے ضامن ہوں کہ قریش کل کو تمہیں تنہا چھوڑ کر نہیں چلے جائیں گے۔حضرت نعیم کی یہ رائے انہیں پسند آئی۔بنو قریظہ سے فارغ ہو کر وہ قریش کے پاس گئے اور ان سے بھی جب جنگ کا ذکر آیا تو حضرت نعیم نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ بنو قریظہ ثابت قدم رہیں گے۔مجھے اندیشہ ہے کہ وہ محمد (صلی ) سے در پر دہ صلح کر لیں گے۔ان کی نسبت بغیر یقین حاصل کئے آخری حملے کے لئے کوئی قدم اُٹھانا مناسب نہیں۔میں یہود سے ملا ہوں وہ اپنے کئے پر پشیمان معلوم ہوتے ہیں کہ بغیر سوچے سمجھے محمد (صلی للی ) سے معاہدہ توڑنے میں جلد بازی کی ہے۔اگر بنو قریظہ تم سے پر عمال طلب کریں تو اپنے آدمی نہ بھیجیں۔چنانچہ جب بنو قریظہ کی طرف سے یر غمال کا مطالبہ ہوا تو قریش کو شبہ پیدا ہو گیا اور انہوں نے اپنے سردار اُن کے پاس بھیجنے سے انکار کر دیا۔انہیں یقین ہو گیا کہ بنو قریظہ ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ان حالات نے حملہ آوروں کی ہمتیں پست کر دیں اور آندھی کے ہولناک واقعہ نے رہی سہی کسر نکال دی۔سیرت ابن ہشام سے ظاہر ہے کہ یہ طوفان کئی دن رہا۔اس بارے میں ان کے یہ الفاظ ہیں: بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الرِّيحَ فِي لَيَالٍ شَاتِيَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ البَزي- سروی موسم سرما میں عام طور پر شدید ہوتی ہے۔درجہ حرارت رات کو صفر سے پانچ درجے گر جاتا ہے اور دن کے وقت دس درجے صفر سے اوپر ہوتا ہے۔مذکورہ بالا واقعہ جس طرح سیرت ابن ہشام میں ہے ، قدرے اختلاف کے ساتھ اسی طرح طبقات ابن سعد میں اختصار سے مروی ہے۔اس میں مذکور ہے کہ حضرت نعیم بن مسعود اشجعی در پردہ ایک مخلص مسلمان تھے۔فَمَشَی بَيْنَ قُرَيْشٍ وَقُرَيْظَةَ وَغَطْفَاتٍ وَأَبْلَغَ هَؤُلَاءِ عَنْ هَؤُلَاءِ كَلَامًا وَهَؤُلَاءِ عَنْ هَؤُلَاءِ كَلَامًا۔يُرَى كُلَّ حِزْبٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ يَنْصَحُ لَهُ فَقَبِلُوا قَوْلَهُ وَخَذَلَهُ عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوْحَشَ كُلَّ حِزْبٍ مِنْ صَاحِبِهِ وَطَلَبَتْ قُرَيْضَةً مِنْ قُرَيْشِ الرَّهِنَ حَتَّى يَخْرُجُوا فَيُقَاتِلُوْا مَعَهُمْ فَأَبَتْ ذَلِكَ قُرَيْضٌ وَاثْهَمُوهُمْ وَاعْتَلَتْ قُرَيْظَهُ عَلَيْهِمْ بِالسَّبْتِ۔۔۔حضرت نعیم نے قریش، قریظہ اور غطفان کے درمیان رادھر کی باتیں اُدھر اور ادھر کی باتیں ادھر پہنچائیں جو بظاہر ان کی خیر خواہی پر مبنی تھیں۔ان باتوں نے انہیں (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه ۱۷۹ تا ۱۸۱) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه (۶۵)