صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 264
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۶۴ ۶۴ - کتاب المغازی بھی) اور نیچے کی طرف سے بھی (یعنی نشیب کی طرف سے بھی) آگئے تھے اور جبکہ آنکھیں گھبرا کر ٹیڑھی ہو گئی تھیں اور دل دھڑکتے ہوئے حلق تک آگئے تھے اور تم اللہ کے متعلق مختلف شکوک میں مبتلا ہو گئے تھے۔اس وقت مومن ایک (بڑے) ابتلا میں ڈال دیئے گئے تھے اور سخت ہلا دیئے گئے تھے۔ان آیات میں جس ہوا کا ذکر ہے وہی تیز و تند آندھی ہے جو غزوہ احزاب کی آخری رات کو چلی اور جس کا ذکر روایات مغازی میں آیا ہے۔نہ نظر آنے والے لشکروں سے مراد ملائکۃ اللہ ہیں جو آندھی کا باعث بنے۔سردی نا قابل برداشت ہو گئی۔محاصرے نے اتنا طول کھینچا کہ خوراک اور چارہ دونوں کم ہو گئے۔قبیلہ غطفان کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔بنو قریظہ اور قریش کے درمیان بدظنی کی خلیج وسیع ہو گئی اور آگ کے بھیجنے سے مشرکین کے تو ہمات بڑھ گئے اور حوصلے پست ہو گئے۔یہ اور تمام ایسے مخفی اسباب آیت جُنُودًا لم تروها کی شرح ہیں۔طبعی اسباب ملائکۃ اللہ کے زیر اثر ی ظہور پذیر یا معدوم ہوتے ہیں۔تفصیل کیلئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۷۶ تا ۸۰۔آنکھیں ٹیڑھی ہونے سے مراد یہ ہے کہ خطرہ اتنا شدید تھا کہ اس سے نجات پانے کی کوئی راہ نظر نہ آتی تھی اور کلیجے منہ تک آنے سے مراد شدید گھبراہٹ ہے۔غزوہ احزاب جنگ ہی نہ تھی بلکہ ایک شدید زلزلہ تھا جس سے مومن جھنجوڑے اور آزمائے گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا زَادَهُمْ إِلا ايْمَانًا وَ تَسْلِيمَانَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا لى (الأحزاب: ۲۳، ۲۴) ترجمہ : اور ان کو اس واقعہ نے ایمان اور اطاعت میں ہی بڑھا دیا کمزور نہیں کیا۔) ان مومنوں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا، سچا کر دیا۔پس بعض تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نیت کو پورا کر دیا (یعنی لڑتے لڑے مارے گئے ) اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ابھی انتظار کر رہے ہیں اور اپنے ارادہ میں کوئی تزلزل انہوں نے نہیں آنے دیا۔دل دہلا دینے والے شدید خطرے کے باوجود صحابہ کرام نے جو ثابت قدمی و علو ہمتی دکھائی، اس کا ذکر مذکورہ بالا آیات کا حوالہ دینے کے بعد روایت نمبر ۴۱۰۸ میں کیا گیا ہے۔پھر روایت نمبر ۴۱۰۷ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر جن کا شمار کم عمر صحابہ میں ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نمونے سے مثل دیگر صحابہ کر ام اتنے متاثر تھے کہ بعد زمانہ بھی وہ اثر کم نہیں کر سکا۔ان کے عمل سے آیت وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا کی تفسیر آشکار ہے۔رضوان اللہ علیہم اجمعین۔( ج ) کتب مغازی میں ایک اور واقعہ نقل کیا گیا ہے جو صحیح بخاری کی روایات میں نہیں۔سیرت ابن ہشام میں ابن اسحاق سے مروی ہے کہ حضرت نعیم بن مسعودؓ غطفانی سردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ ! میں اسلام قبول کر چکا ہوں اور میری قوم کو علم نہیں، کوئی خدمت بتائیں جو میں اس موقع پر کر سکوں۔آپ نے فرمایا: إِنَّمَا أَنْتَ فِيْنَا رَجُلٌ وَاحِدٌ فَخَدِّلْ عَنَّا إِنِ اسْتَطَعْتَ فَإِنَّ الْحَرْبَ خُدُعَةٌ : تم ہم میں