صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 263 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 263

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۶۳ ۶۴ - کتاب المغازی حضرت حذیفہ بن یمان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں میں جو کھلبلی پڑی تھی، اس کی خبر لانے کے لئے بھیجا۔انہوں نے دشمن کے لشکر سے واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ ابو سفیان اس طرح بو کھلا گیا ہے کہ اس نے لوگوں سے کہا: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اِنَّكُمْ وَاللهِ مَا أَصْبَحْتُمْ بِدَارٍ مُقَامٍ لَقَدْ هَلَكَ الْكُرَاعُ وَالْخَفُ وَاخْلَفَتْنا بَنُوقُرَيْظَةَ وَبَلَغَنَا عَنْهُمُ الَّذِي نَكْرَهُ وَ لَقِينَا مِنْ شِدَّةِ الرِّيحِ مَا تَرَوْبَ مَا تَطْمَئِنُّ لَنَا قِدْرُ وَلَا تَقُومُ لَنَا نَارٌ وَلَا يَسْتَمْسِكُ لَنَا بِنَاءِ فَارُ تَحِلُوا فَإِنِّي مُرْتَحِلٌ - اے قریش! یہ ٹھہرنے کی جگہ نہیں، جو حال ہے تم دیکھ رہے ہو، مال مویشی ہلاک ہو گئے۔بنو قریظہ نے ہمارے ساتھ معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے اور ہم سے یر غمال طلب کیے ہیں جو ہمیں پسند نہیں۔آندھی کی شدت سے جو ہماری حالت ہوئی ہے وہ تم دیکھ رہے ہو۔ہانڈیاں ٹھہرتی نہیں، آگ جلتی نہیں، کوئی خیمہ بر قرار نہیں رہتا۔چلو کوچ کرو، میں تو جارہا ہوں۔یہ کہہ کر وہ اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور اس کے گھٹنے کا بندھن کھولنا بھول گیا، اونٹ تین ٹانگوں پر کھڑا تھا، چلتا نہیں تھا۔حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ آنحضرت علی ایم نے لشکر کی خبر معلوم کرنے کیلئے مجھے بھیجا تھا۔اگر مجھے یہ ذمہ داری پوری کرنے کی فکر نہ ہوتی تو میں ابوسفیان کو تیر سے ٹھکانے لگاتا۔یہ حال دیکھ کر میں وہاں سے لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی لی کام ایک یمنی چادر اوڑھے نماز تہجد پڑھ رہے ہیں۔جب مجھے دیکھا تو اپنی چادر مجھ پر ڈال دی کیونکہ سردی شدت کی تھی۔جب سلام پھیر چکے ، میں نے صورت حال عرض کی اور بتایا کہ غطفان بھی اپنا ساز و سامان اُٹھا کر چل دیئے ہیں۔اے ابن سعد نے بھی اپنی کتاب طبقات میں حضرت حذیفہ بن یمان کا یہی بیان تقریباً انہی الفاظ میں نقل کیا ہے۔امام بخاری کی محولہ بالا روایت میں اختصار ہے۔انہوں نے اس سے قبل روایت نمبر ۴۱۰۳ میں سورۃ الاحزاب کی ان آیات کا حوالہ دیا ہے جن میں آندھی اور نظر نہ آنے والی ملکوتی افواج کے ذریعہ سے نصرت دیئے جانے کا ذکر ہے۔فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاء تَكُم جُنُودُ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًانَ إِذْ جَاء وَكَمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنُونَا هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (الأحزاب: ۱۰ تا ۱۲) ترجمہ : اے مومنو! اللہ کی اُس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جبکہ تم پر کچھ لشکر چڑھ آئے تھے اور ہم نے ان کی طرف ایک ہو اسے بھیجی تھی اور ایسے لشکر بھیجے تھے جن کو تم نہیں دیکھتے تھے اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔(ہاں) اس وقت کو یاد کرو جبکہ تمہارے مخالف تمہاری اوپر کی طرف سے بھی (یعنی پہاڑی کی طرف سے ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه ۱۸۳،۱۸۲) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۶،۶۵) اس میں غزوہ احزاب کا ذکر ہے جبکہ عین اس دن جب دشمن غالب آنے کا اُمید وار تھا، تیز ہوا چلی اور رات کو مختلف کیمپوں کی آگئیں بجھ گئیں جسے عرب لوگ منحوس خیال کرتے تھے۔اسے دیکھ کر دیوانہ وار سب جرنیل اپنے قبیلوں کو لے کر بھاگ گئے۔اور مسلمان اُن کی یورش سے محفوظ ہو گئے۔(منہ)