صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 262
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۶۲ ۶۴ - کتاب المغازی دوسری ضرب لگائی اور اللہ اکبر کہا۔وہ ایک تہائی اور ٹوٹ گیا۔آپ نے فرمایا: أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ فَضَرَ الْمَدَائِنِ أَبْيَضَ - یعنی فارس کی کنجیاں مجھے دی گئی ہیں۔اللہ کی قسم ! میں مدائن کا محل دیکھ رہا ہوں جو سفید ہے۔پھر بسم اللہ کہ کر تیسری ضرب لگائی اور اللہ اکبر کہا۔پتھر کا باقی حصہ بھی ٹوٹ گیا اور آپ نے فرمایا: اخطيت مَفَاتِحَ الْيَمَنِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَّكَانِي هَذَا - یعنی یمن کی چابیاں مجھے دی گئیں۔اللہ کی قسم ! میں صنعاء کے دروازے اپنی اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۴۹۶) یہ بیان حضرت براء بن عازب اور حضرت عبد اللہ بن عمرو کا ہے۔امام بیہقی کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکیر ڈال کر خندق کی نشاندہی فرمائی۔کھدائی کے دوران ایک سفید پتھر حائل ہوا، جسے ہماری کہ الیں نہ توڑ سکیں۔ہم نے چاہا کہ وہ چھوڑ دیں لیکن فیصلہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کر لیا جائے۔ہم نے حضرت سلمان فارسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔آپ آئے فَضَرَبَ ضَرْبَةً صَدَعَ الصَّخْرَةَ وَبَرَقَ مِنْهَا بَرْقَةٌ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ الْمُسْلِمُون - یعنی آپ نے ایک ضرب لگائی جس سے پتھر ٹوٹ گیا اور اس سے ایک چمک پیدا ہوئی۔آپ نے اللہ اکبر کہا، مسلمانوں نے بھی اللہ اکبر کہا۔غرض اسی طرح چند ضر ہیں لگائیں جن سے آخر وہ پتھر ٹوٹ گیا۔ہر ضرب سے چمک پیدا ہوتی اور آپ اللہ اکبر کہتے اور صحابہ بھی اللہ اکبر کہتے۔آخر ان کے دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا: اِنَّ البَرْقَةَ الأولى أَضَاءَتْ لَهَا قُصُورُ الشَّامِ فَأَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ أَنَّ أُمَّتِي ظَاهِرَةٌ عَلَيْهِمْ پہلی چمک پر شام کے محل روشن ہوئے اور جبرائیل نے مجھے بتایا کہ میری امت اہل شام پر غالب ہوگی۔اسی طرح آپ نے مدائن اور یمن کی فتوحات کا ذکر فرمایا۔اس روایت کے آخر میں ہے۔فَفَرِحَ الْمُسْلِمُونَ وَاسْتَبْشَرُ وا - مسلمان اس بشارت سے خوش ہو گئے۔طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے یہی روایت نقل کی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۹۶) مذکورہ بالا روایات کی بناء پر جن کی سند حسن ہے ، مؤرخین اسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ بالا کشفی نظارہ غزوہ احزاب کے تعلق میں بیان کیا ہے۔اس تعلق میں کتاب سیرت خاتم النبيين صلى الله علم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، حصہ دوم صفحہ ۵۷۷ بھی دیکھئے۔امام بخاری کی روایت نمبر ۴۱۰۱ میں یہ تفصیل نہیں۔(ب) روایت نمبر ۴۱۰۵ میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باد صبا سے میری مدد کی گئی ہے اور عاد باد دبور سے ہلاک کئے گئے تھے۔امام ابن حجر کے نزدیک اس روایت کا تعلق اس تیز و تند آندھی سے ہے جو غزوہ خندق کی آخری رات کو چلی تھی جس سے دشمنوں کے لشکر میں کھلبلی پڑ گئی تھی، ان کی آگیں بجھ گئیں اور چولہوں پر سے ہانڈیاں الٹ گئیں۔( یہ مشرکین کے لئے براشگون تھا۔) خیمے اکھڑ گئے اور ان کے جانور بدک گئے۔آندھی کیا تھی کہ ایک ناگہانی آفت جس نے لشکر میں انتشار و ابتری پیدا کر دی۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۰۲) کتب مغازی کی روایت میں اس تیز و تند آندھی کا مفصل ذکر آیا ہے اور مؤرخین نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔