صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 261
حيح البخاری جلد ۸ ۲۶۱ ۶۴ - کتاب المغازی ۱۷ میدان جنگ یکایک راتوں رات خالی ہو گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ اس کے بعد دشمن ہم پر حملہ آور نہیں ہو گا بلکہ ہم اس پر حملہ آور ہوں گے۔(روایت نمبر ۴۱۱۰،۴۱۰۹) اس اعلان کے بعد بالفعل ایک دوسرا دورِ غزوات یورشوں کی صورت میں شروع ہوا جس کا ذکر آئندہ تفصیل سے آئے گا۔نبی اکرم صلی اللہ کا دشمنوں کا حال دریافت کرنے کے لئے مجاہدین کو آواز دینا۔(روایت نمبر ۴۱۱۳)۔19 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فتح پر شکر الہی بجالانا۔(روایت نمبر ۴۱۱۶،۴۱۱۴) امام بخاری کی روایتوں سے جو مذکورہ بالا باتیں خلاصہ درج کی گئی ہیں ان کا ذکر کتب مغازی کی روایات میں بھی آیا ہے مگر قدرے اختلاف کے ساتھ۔یہ اختلاف حسب ذیل ہیں: (الف) روایت نمبر ۴۱۰۱ میں سنگلاخ ٹکڑے کے توڑنے کا جو ذکر ہے اس کے لئے لفظ حدیہ آیا ہے جس کے معنی ہیں سخت پتھر کا ٹکڑا، چٹان، سنگلاخ زمین۔ابن اسحاق کی روایت میں جو حضرت سلمان فارسی سے منقول ہے لفظ صَخْرَةُ ہے یعنی سخت پتھر (غلظت عَلَى : اتنا سخت تھا کہ میں توڑ نہ سکا۔) حضرت سلمان فارسی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب تھے۔آپ خندق میں اترے، اپنے ہاتھ میں کدال لی، اس پر ایک ضرب لگائی جس سے چمک پیدا ہوئی۔پھر دوسری اور تیسری ضرب لگائی۔ہر دفعہ چمک پیدا ہوئی اور وہ پتھر ٹوٹ گیا۔میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چمک کا ذکر کر کے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: پہلی چمک یمن کی فتح ہے جو اللہ مجھے دے گا اور دوسری چمک شام اور مغرب کی فتح اور تیسری چمک مشرق کی فتح۔امام بخاری کی محولہ بالا روایت کے راوی حضرت جابر ہیں۔اس میں یہ ذکر نہیں اور نہ طبقات ابن سعد میں اس کا ذکر ہے۔امام ابن حجر نے بحوالہ امام احمد بن حنبل و نسائی حضرت براء بن عازب سے سے بحوالہ طبرانی حضرت عبد اللہ بن عمرو سے سے اور بحوالہ بیقی حضرت عمرو بن عوف سے ہے اسی واقعہ کی نسبت روایتیں نقل کی ہیں جن میں بالا تفاق ذکر ہے کہ خندق کی کھدائی کے اثناء میں ایک بڑا پتھر حائل ہوا، ہماری کرالیں اسے نہ توڑ سکیں۔ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کدال کی اور بسم اللہ کہہ کر اس پر ایک ضرب لگائی تو وہ ایک تہائی ٹوٹ گیا۔آپ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَبْصِرُ قُصُوْرَهَا الْحُمْرَ الساعة- یعنی شام کی کنجیاں مجھے دی گئی ہیں۔اللہ کی قسم ! میں اس کے سرخ محل اس گھڑی دیکھ رہا ہوں۔بسم اللہ کہہ کر (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه ۱۷۱) (مسند احمد بن حنبل، مسند الكوفيين، حديث البراء بن عازب، جزء ۴ صفحه ۳۰۳) (السنن الكبرى للنسائی، کتاب السير، باب حفر الخندق، جزء ۳ صفحه ۱۷۱) (المعجم الكبير للطبرانی، عبد الله بن عمرو بن العاص، جزء ۱۴ صفحه ۷۰،۴۶) (دلائل النبوة للبيهقي ، جماع أبواب مغازی، باب ما ظهر فى حفر الخندق، جزء ۳ صفحه ۴۱۹،۴۱۸)